سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 491
سيرة النبي علي 491 جلد 2 کہ رسول کریم ﷺ کی ذات کو غیر مذاہب کے سامنے پیش کیا جائے اور ان کو بتایا صلى الله جائے کہ ہمارے رسول کریم ﷺ پر ان کا اعتراض کرنا فضول ہے۔یہ کونے کا پتھر ہے جو اس پر گرے وہ بھی چور چور ہو جاتا ہے اور جس پر یہ گرے وہ بھی چور چور ہو جاتا صلى الله ہے۔ایک زمانہ وہ تھا جب کہ رسول کریم ﷺ زندہ تھے اس وقت آپ جس پر گرتے چور چور ہو جاتا۔اب یہ زمانہ آیا کہ لوگ آپ پر گرتے ہیں۔اب ان کو یہ بتانا ہے کہ آپ چونکہ کونے کا پتھر ہیں اس لئے جو آپ پر گرے وہ بھی چور چور ہو جاتا ہے۔یہی نہیں کہ رسول کریم ﷺ اپنی زندگی میں جس پر حملہ کرتے اُس پر فتح پاتے بلکہ آپ کی وفات کے بعد بھی آپ پر جو حملہ کرے گا وہ بھی مغلوب ہی ہوگا۔اس کے لئے ہماری جماعت کو ایسی بادشند سخت بگولہ اور پُر زور طوفان بننا ہو گا جو ایک سرے سے دوسرے سرے تک لوگوں کو ہلا دے۔پس ان جلسوں اور میلاد کے جلسوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ایک سو سال کے میلاد بلکہ پانچ سو سال کے میلاد بلکہ ہزار سال کے میلا د بھی وہ کام نہیں کر سکتے جو یہ جلسے جو میرے مدنظر ہیں کر سکتے ہیں۔میلاد آقا اور غلام کے تعلقات کا اقرار ہے اور وہ بھی علیحدگی میں۔مگر یہ جلسے اس اقرار کے لئے ہوں گے کہ ہمارا آقا ایسی چیز نہیں ہے کہ ہم اسے چھپا کر رکھیں۔ہم اسے دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں آؤ ا سے دیکھ لو اور اس کی خوبیوں کو پرکھ لو۔پس میلا د تو ایسی محبت کا اظہار ہے جو گھر میں بچہ سے کی جائے مگر یہ جلسے ایسا کھلا چیلنج ہے جیسے سپاہی میدان جنگ میں کھڑا ہو کر دیتا ہے اور کہتا ہے آؤ میں مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہوں۔مگر یہ چیلنج ایک مذہب کا دوسرے مذہب کو نہیں نہ اسلام کا دوسرے مذاہب کو ہے بلکہ یہ ایک مقدس ہستی کا دوسرے بنی نوع انسان کو ہے اس لئے ہم یہ چیلنج دینے والوں میں غیر مذاہب کے لوگوں کو بھی شامل کر سکتے ہیں بلکہ ہم انہیں خوش آمدید کہتے ہیں کیونکہ اس طرح ہم دنیا کو یہ بتائیں گے کہ آپ کو خدا تعالیٰ کا رسول ماننے والے ہی چیلنج نہیں دیتے بلکہ جو اس حد تک آپ کو نہیں مانتے جو ماننے کا حق ہے وہ بھی چیلنج دے