سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 490 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 490

سيرة النبي ع 490 جلد 2 بھی آسان ہے۔مگر ان علاقوں کو چھوڑ کر سارا علاقہ بھی ، مدراس، برار، میسور، بڑوده وغیرہ ریاستیں ان علاقوں میں ہماری جماعتیں نہایت قلیل تعداد میں ہیں اور جہاں جماعتیں قلیل تعداد میں ہیں وہاں ایک اور مشکل یہ بھی ہے کہ وہاں کی زبانیں ہماری زبان سے مختلف ہیں۔یو۔پی اور بہار میں جماعتیں کم ہونے کے باوجود انتظام آسان ہے کیونکہ ان علاقوں میں اردو زبان بولی جاتی ہے۔مگر جہاں تامل، تلنگو ، مرہٹی ، مالا باری زبانیں بولی جاتی ہیں وہاں انتظام کرنا زیادہ مشکل ہے۔مگر جلسے تبھی مفید ہو سکتے ہیں جب ہزار کی تعداد میں نہیں بلکہ کم از کم ہزار بڑے بڑے شہروں اور قصبوں میں ہوں۔اگر صرف ہزار کی تعداد میں جلسے کرنے ہوں تو صرف دوضلعوں گورداسپور اور سیالکوٹ میں کئے جا سکتے ہیں۔مگر فائدہ اور اثر تبھی ہوسکتا ہے جب ہزار بڑے بڑے شہروں اور قصبوں میں جلسے ہوں اور ہر زبان میں ہوں۔اسی طرح برہما میں بھی انتظام مشکل ہے کیونکہ وہاں کی زبان اور ہے اور جماعت کم ہے۔پس نہایت ضروری ہے کہ ہر علاقہ کی احمدی جماعتیں اس کے متعلق خاص کوشش کریں اور اپنے اپنے علاقہ میں مرکزی جماعتیں قائم کریں۔یہ کام جس کی تحریک کی گئی ہے کوئی معمولی کام نہیں بلکہ بہت بڑا ہے اور اس کے لئے بہت وقت اور بہت بڑی قربانی کی ضرورت ہے۔کسی جگہ صرف جلسہ کر دینا کافی نہیں ہوگا۔ہر جگہ میلاد کے جلسے ہوتے ہیں مگر ان کا لوگوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا اور ان میں نئی زندگی نہیں پیدا ہوتی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ میلاد کی نوعیت اور ہے۔میلاد میں مسلمان محض ثواب کے لئے جمع ہو جاتے ہیں دوسرے مذاہب کے لوگ نہیں آتے۔مگر یہ جلسہ جس کی تحریک کی گئی ہے اس لئے ہے کہ دوسروں کو اس میں شامل کرنے کی کوشش کی جائے۔پھر میلاد کی یہ غرض نہیں ہوتی کہ رسول کریم ﷺ کے وجود کو اس دنیا کے لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے بلکہ یہ ہوتی ہے کہ بعض مسلمانوں کے عقیدہ کے مطابق مسلمانوں کو رسول کریم ﷺ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔مگر ہمارے ان جلسوں کی غرض یہ ہوگی