سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 492 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 492

سيرة النبي علي 492 جلد 2 رہے ہیں۔ایک تو ان جلسوں کا یہ مقصد ہے جو کسی اور جلسہ سے پورا نہیں ہوسکتا۔دوسرا مقصد ایک اور ہے جس میں مسلمانوں کا چیلنج دنیا کو ہے۔پہلی صورت میں رسول کریم ﷺ کا چیلنج دنیا کی ہستیوں کو ہے اس میں اور لوگ بھی شامل ہو سکتے ہیں۔میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو یہ کہتے ہیں کہ دنیا کے لوگوں کا اکثر حصہ شریر ہوتا ہے میرے نزدیک اکثر لوگ شریف ہیں۔اسی طرح میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو یہ کہتے ہیں ہندوؤں میں سے اکثر لوگ شریر ہیں بلکہ میں ان میں سے ہوں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہندوؤں میں سے اکثر شریف ہیں۔اسی طرح میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں جو یہ کہتے ہیں عیسائیوں میں سے اکثر حصہ شریر ہے بلکہ ان میں سے ہر جو یہ کہتے ہیں کہ عیسائیوں کا اکثر حصہ شریف ہے۔مگر بات یہ ہے کہ شریفوں کا طبقہ دوسروں سے دبا ہوا ہے۔ہمارا فرض ہے کہ ان کی دبی ہوئی آواز کو بلند کریں۔ان جلسوں کے ذریعہ ہندوؤں کی وہ کثرت جو اپنے اندر شرافت رکھتی ہے اور صلح کے لئے تیار ہے اس کو جرات دلائیں گے اور اس کے حوصلے بڑھائیں گے تا کہ ایسے لوگوں کے سامنے آنے سے مذہب اور ملک پر اثر پڑے۔فتنہ انگیز لوگ دب جائیں اور ملک میں امن قائم ہو سکے۔اسی طرح عیسائیوں اور یہودیوں کی کثیر تعداد جو شریف اور امن پسند ہے مگر دوسروں سے دبی ہوئی ہے اس کو بلند کریں گے تا کہ شریروں کی آواز دب جائے اور شریفوں کی کثیر تعداد کھڑی ہو جائے۔پس ان جلسوں کے ذریعہ ہمارا ان لوگوں کو جو فتنہ انگیز ہیں چیلنج ہو گا۔ہم انہیں بتا ئیں گے ہم اس لئے کھڑے ہوئے ہیں کہ شریروں کو دبا دیں اور شریفوں کی جو ہر قوم و مذہب میں کثرت سے پائے جاتے ہیں مدد کریں تا کہ ملک میں امن قائم ہو۔پھر ہما را چیلنج ان لوگوں کو ہو گا جو رسول کریم ﷺ کی ذات پر حملہ کرتے صلى الله ہیں۔ہم انہیں کہیں گے تمہاری غرض اگر یہ ہے کہ مسلمان محمد رسول اللہ ﷺ سے جدا ہو جائیں تو یہ غلط ہے۔ہم اور زیادہ آپ کے قریب ہوں گے اور کوئی انسانی ہاتھ