سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 470 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 470

سيرة النبي عالم 470 جلد 2 ایک ای۔اے سی سے کچھ مانگا مگر اس نے مانگنے سے زیادہ اسے دے دیا۔اس فقیر کا دل دعا کی طرف مائل ہوا اور اس نے اس کے لئے یہ دعا کی کہ خدا تمہیں تھانیدار بنا دے۔چونکہ اس کے نزدیک یہی درجہ سب سے بڑا تھا کیونکہ جہاں وہ جاتا تھا سپا ہی اس کے پیچھے پڑ جاتے اور تھانیدار کے سامنے پیش کر دیتے۔صلى الله پس رسول کریم ﷺ کے لئے یہ دعا کرنا کہ آپ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام والا درجہ دیا جائے ایسی ہی دعا ہے جیسے ای۔اے۔سی کے لئے یہ کہا گیا تھا کہ خدا تمہیں تھانیدار بنا دے اور حقیقت یہ ہے کہ اس طرح یہ دعا نہیں بلکہ بددعا معلوم ہوتی ہے۔میرا خیال ہے میں نے کئی دفعہ اس کے متعلق بیان کیا ہے مگر سوال کرنے والے ایسے دوست ہیں جو اخباروں سے تعلق رکھتے ہیں اور تحریریں پڑھنے والے ہیں۔ممکن ہے ان کے حافظہ کی غلطی ہو اور ان کو میری بیان کردہ باتیں یاد نہ رہی ہوں یا ممکن ہے میں نے ایسی وضاحت نہ کی ہو جس کی ضرورت ہو اس لئے پھر بیان کرتا ہوں۔بات یہ ہے کہ اعتراض دو جگہ پڑا کرتے ہیں۔ایک تو وہاں جو محل اعتراض ہو اور دوسرے ایسی جگہ جو محلِ اعتراض نہ ہو۔جو محل اعتراض جگہ ہوتی ہے وہاں بھی دو صورتیں ہوتی ہیں۔اول یہ کہ اعتراض غلط ہو اور دوسری یہ کہ اعتراض صحیح ہو مگر وہ بات نادرست ہو جس پر اعتراض پڑتا ہے۔مگر درود تو رسول کریم ﷺ نے سکھایا ہے اور آپ نے ہی نہیں سکھایا بلکہ خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس کا ذکر کیا ہے۔اب ہم یہ تو کہہ نہیں سکتے کہ درود میں غلطی ہے اس وجہ سے دوسرا پہلو ہی اختیار کرنا پڑے گا کہ ایسی جگہ پر اعتراض کیا جاتا ہے جو محل اعتراض نہیں ہے۔اس کے بھی دو پہلو ہیں ایک یہ کہ جن معنوں کے لحاظ سے اعتراض کیا جاتا ہے وہ غلط ہیں یا یہ کہ وہ معنی تو صحیح ہیں مگر جو اعتراض کیا جاتا ہے وہ غلط ہے۔مگر ہم جتنا بھی غور کرتے ہیں یہ اعتراض غلط معلوم نہیں ہوتا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رسول کریم ﷺ حضرت ابراہیم علیہ السلام