سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 469
سيرة النبي علي 469 جلد 2 تعداد میں شائع ہونا چاہئے جس کے لئے بہت بڑے اخراجات کی ضرورت ہے۔اس کے بعد خط و کتابت اور دوسری ہدایات بھیجنے کے لئے اور سارے ہندوستان میں بھیجنے کے لئے بڑے خرچ کی ضرورت ہے۔پس جب تک بہت جلد بلکہ جنوری میں ہی ایک بڑی رقم نہ آجائے اس کام میں ہاتھ ڈالنا نہایت خطر ناک ہو گا۔وہ دوست جنہوں نے سالانہ جلسہ پر ریز رو فنڈ جمع کرنے کا وعدہ کیا ہے وہ کچھ نہ کچھ جنوری میں پھر فروری میں اور مارچ میں جمع کر کے بھیج دیں تا کہ سہولت کے ساتھ اس کام میں ہاتھ ڈالا جا سکے۔اس کے بعد ایک سوال کے متعلق جو پچھلے ہفتہ میرے سامنے پیش ہوا میں اس وقت روشنی ڈالنا چاہتا ہوں۔ایک دوست نے لکھا کہ 1925 ء کے خطبہ میں میں نے درود کے متعلق روشنی ڈالی تھی جس سے بہت لوگوں نے فائدہ اٹھایا تھا۔مگر وہ کہتے ہیں ایک سوال ہے جس پر روشنی نہ ڈالی گئی تھی جو کہ ضروری ہے۔وہ سوال یہ ہے کہ درود میں یہ دعا سکھائی گئی ہے اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ - ای طرح یہ دعا ہے اللهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ۔حالانکہ رسول کریم کا درجہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بڑا ہے۔ایک بڑے درجہ والے کے لئے یہ دعا کرنا کہ اسے وہ کچھ ملے جو اس سے چھوٹے درجہ والے کو ملا اور نہ صرف ایک دفعہ بلکہ یہ دعا کرتے ہی چلے جانا اور قیامت تک کرتے چلے جانا یہ ایک معمہ اور چیستان ہے جس کا حل ضروری ہے۔واقعہ میں اگر اس بات کی حقیقت پر غور نہ کریں تو یہ بات ایسی ہی معلوم ہوتی ہے جیسے کہتے ہیں کوئی فقیر تھا ایسے لوگ چونکہ ادھر ادھر پھرتے رہتے اور کوئی مستقل ٹھکانا نہیں رکھتے اس لئے علی العموم پولیس کی دست برد میں آتے رہتے ہیں اور تھانیدار کو سب سے زیادہ اختیارات کا مالک سمجھتے ہیں۔کہتے ہیں اس نے