سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 471
سيرة النبي علي 471 جلد 2 سے افضل ہیں اور اللہ تعالیٰ نے کھلے لفظوں میں سب انبیاء سے افضل آپ کو بتایا ہے کیونکہ اکمل اور اتم دین آپ کو ہی دیا گیا۔اور ممکن نہیں کہ بڑا کام چھوٹے کے سپرد کیا جائے اور چھوٹا کام بڑے آدمی کے۔بڑا کام بڑے کو ہی دیا جاتا ہے اور چھوٹا چھوٹے کو۔کبھی کوئی عقلمند یہ نہ کرے گا کہ گھسیارے کا کام تو ایک تعلیم یافتہ آدمی کے سپرد کر دے اور دفتر کا کام گھسیارے کے سپر د۔کوئی بادشاہ یہ نہیں کرے گا کہ وزیر کا کام ایک معمولی آدمی کے سپر د کر دے اور وزیر کو کسی ادنی سے کام پر لگا دے حتی کہ وہ یہ بھی نہ کرے گا کہ وزیر اعظم بننے کے لائق انسان کو وزیر بنالے اور وزیر کو وزیر اعظم بنا دے۔جب کوئی انسان اس طرح نہیں کر سکتا تو اللہ تعالیٰ سے کس طرح ممکن ہے کہ جو نبی خاتم النبین ہونے کی قابلیت رکھتا تھا اسے نبی بنا دے اور جو نبی ہونے کی قابلیت رکھتا تھا اسے خاتم النبین کا درجہ دے دے۔اگر یہ مانا جاتا ہے کہ رسول کریم کا کام سب انبیاء سے بڑا تھا، آپ کو کامل شریعت دی گئی ، آپ کو وہ مقام شفاعت عطا ہوا جو کسی اور نبی کو نہیں دیا گیا تو پھر یہ سمجھنا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام یا کسی اور نبی کو آپ پر فضیلت حاصل تھی یہ رسول کریم ﷺ پر ہی اعتراض نہیں بلکہ صلى الله خدا تعالیٰ پر اعتراض ہے کہ اس نے رسول کریم ﷺ کو کام تو سب انبیاء سے بڑھ کر سپر د کیا مگر سب سے بڑا درجہ نہ دیا۔صلى الله علق پس میں یہ مانتا ہوں کہ اعتراض غلط نہیں ہے۔مگر اس صورت میں ہمارے لئے یہی پہلو رہ جاتا ہے کہ جو معنی سمجھے جاتے ہیں وہ غلط ہیں اور اصل معنی ومفہوم کچھ اور ہے۔اس کے لئے ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ اعتراض کس لحاظ سے پڑتا ہے۔اعتراض پڑنے کی وجہ یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ اور حضرت ابراہیم کی ذاتی فضیلت کا مقابلہ کیا جاتا ہے اور سمجھا جاتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی ذات چونکہ اعلیٰ ہے اس لئے درود میں یہ دعا کرنے سے کہ آپ کی ذات کو وہ کچھ دیا جائے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام