سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 444 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 444

سيرة النبي ع 444 جلد 2 عليسة قوم پر حملہ کیا۔اور ساری قوم پر حملہ کرنے کا جرم ایک انسان پر حملہ کرنے کے جرم سے بہت زیادہ وزن رکھتا ہے۔میں وہ الفاظ نہیں پاتا، اپنی زبان میں اتنی قدرت نہیں رکھتا اور اپنی گویائی میں یہ طاقت نہیں دیکھتا کہ جن الفاظ ، جس قدرت اور جس طاقت کے ساتھ ان لوگوں کے فعل پر حقارت اور نفرت کا اظہار کروں جنہوں نے بعض لوگوں پر اس لئے حملہ کیا کہ ان کا اس قوم سے تعلق تھا جس کے افراد نے اسلام یا رسول کریم کی بہتک کی یا جو ایسے لوگوں کے دوست اور مددگار تھے۔لیکن اسی طرح بلکہ اس سے بڑھ کر میں اپنے آپ کو اس بات کے ناقابل پاتا ہوں کہ ان لوگوں کے فعل کی تحقیر اور تذلیل کر سکوں جنہوں نے افراد کے فعل کو اسلام کی طرف، رسول کریم کی طرف منسوب کیا۔انہوں نے فرد پر حملہ کرنے والوں کو برا کہا مگر قوم پر حملہ کرنے والوں کو برا نہ سمجھا۔اگر حملہ کرنے والوں کے متعلق ان کا جوش حقیقی اور مخلصانہ ہوتا تو وہ ویسا ہی جوش ان کے خلاف بھی دکھاتے جنہوں نے افراد کے الزام کو ساری قوم پر لگایا۔ان کی غیرت اور جوش بتاتا ہے کہ وہ حمیت جاہلیت کا جوش تھا، خدا کے لئے اور حق کے لئے نہ تھا۔اگر ہندوؤں پر بعض افراد نے بلا وجہ حملہ کیا تو یہ ان کی غلطی تھی۔اسلام اور بانی اسلام کی طرف اس کا منسوب کرنا کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہوسکتا۔اس غلطی کا وہی ذمہ دار ہے جو ارتکاب کرتا ہے۔اسے اگر اس دنیا میں شرم دامن گیر نہیں ہوتی یا وہ سزا نہیں پاتا تو مرنے کے بعد کی زندگی میں جس کے ہندو بھی قائل ہیں ( گووہ یہ کہتے ہیں کہ مختلف جونوں میں جانا پڑتا ہے ) اسے بدترین جون میں ڈالا جائے گا۔اور اگر حشر نشر کا عقیدہ صحیح ہے اور میرے نزدیک یہی صحیح ہے جو اسلام نے پیش کیا ہے اس لئے اگر کوئی اس دنیا کی گورنمنٹ کی سزا سے بچ جائے تو وہاں محفوظ نہ رہ سکے گا۔اگر چہ ہندوؤں کی یہ روش نہایت ہی افسوس ناک ہے لیکن ہمیں ان کا معاملہ خدا کے سپرد کرنا چاہئے۔ہمارا فرض یہ ہے کہ ہم اپنے لئے قتل کو حقارت کی نظر سے دیکھیں اور اگر کوئی اس کا مرتکب ہو تو اس سے ہمدردی نہیں ہونی