سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 445
سيرة النبي علي 445 جلد 2 چاہئے۔مگر اس کے یہ معنی بھی نہیں کہ اگر کسی کو خواہ مخواہ مجرم بنایا جائے تو مسلمان ہندوؤں سے اس لئے ہمدردی کا اظہار کریں کہ اپنے اخلاق کی وسعت دکھا ئیں۔بعض لوگ منافق ہوتے ہیں جو اپنی قوم پر جرم لگاتے ہیں اور دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ ہم اخلاق کی اصلاح چاہتے ہیں مگر واقعات خود بخود بولتے اور ایسے لوگوں کے چہرے آپ ہی ان کی حالت بتا دیتے ہیں۔مثلاً وہی شخص جسے راجپال پر حملہ کرنے والا کہا جاتا ہے اپنے گھر بیٹھا ہوتا اور راجہاں اس پر حملہ کرتا اس وقت خود حفاظتی میں خود زخمی ہو جاتا یا اسے زخمی کر دیتا اور مسلمان کہتے اس نے بہت برا کیا تو میں کہتا ایسے مسلمان منافق ہیں جو ہندوؤں کو خوش کرنے کے لئے مسلمانوں پر الزام لگا رہے ہیں اور اپنے نفاق کو اپنے بھائی کی دشمنی کے پردہ میں چھپا رہے ہیں۔اور جسے وہ روشنی سمجھ رہے ہیں وہ روشنی نہیں بلکہ روغن قاز ہے یا تارکول ہے جس سے اپنا چہرہ سیاہ کر رہے ہیں۔لیکن جہاں بات بالکل عیاں نہ ہو بلکہ کچھ اخفا ہو وہاں قوم کا فرض ہے کہ جو افراد پھنس گئے ہوں ان کی مدد کرے۔مثلاً جس طرح ایک شخص کا بیان ہے کہ میں پاس سے گزر رہا تھا کہ میں نے رسول کریم ﷺ کی ہتک ہوتی سنی اس پر میری ان سے لڑائی ہوگئی۔یہ ایسا بیان ہے جو امکان رکھتا ہے کہ درست ہو۔گو اس کے بعد کا بیان اسے مجرم بنانے کے لئے کافی ہے مگر جہاں بیان کے درست ہونے کا امکان ہوایسی حالت میں مسلمانوں کا فرض ہے کہ مدد کریں اور جب تک جرم ثابت نہ ہو امداد سے پہلو تہی نہ کریں۔لیکن ایک جرم بالبداہت ظاہر ہوتا ہے۔جیسے راجپال نے کتاب شائع کی اور ہندوؤں نے اس کی مدد کی۔یہ ظالمانہ فعل کیا۔اسی طرح اس قسم کا کیس جس طرح کا سوامی شردھانند کا تھا اس میں مدد کرنا میں نامناسب سمجھتا ہوں۔اس مقدمہ میں ایک احمدی بیرسٹر بلائے گئے جس پر میں نے ناراضگی کا اظہار کیا کیونکہ کم از کم میرے نزدیک ملزم کا جرم ثابت تھا۔ایک مرا ہوا آدمی پایا گیا۔عین اس موقع پر ملزم کو پکڑا گیا جس کے ہاتھ میں پستول تھا اور اسی پستول کی گولیاں مقتول کے جسم سے نکلیں۔ایسی