سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 443 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 443

سيرة النبي عمال 443 جلد 2 کوئی مجرم ہو ان کی قوم اور مذہب کا جرم سمجھا جاتا ہے اور اعتراض ساری قوم اور مذہب پر کیا جاتا ہے۔کمزور قو میں ہمیشہ اس مصیبت میں مبتلا رہتی ہیں کہ ہر قسم کے عیوب ان کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں اور ان کے افراد کے عیوب بھی ان کے مذہب اور قوم پر چسپاں کئے جاتے ہیں۔یہی حال آج کل مسلمانوں کا ہے۔کوئی فعل کوئی مسلمان کرے اس کا الزام تمام مسلمانوں اور اسلام پر لگایا جاتا ہے۔وہی فعل جو ہزاروں ہندو، ہزاروں سکھ اور ہزاروں عیسائی کر رہے ہیں ان کی قوم اور مذہب پر اس کا الزام عائد نہیں کیا جاتا۔جب کوئی ہندو ایسا فعل کرتا ہے تو کہا جاتا ہے ایک شریر نے ایسا کیا۔جب ایک عیسائی وہ فعل کرتا ہے تو کہا جاتا ہے ایک شخص نے ایسا کیا۔جب ایک سکھ ایسا فعل کرتا ہے تو کہا جاتا ہے ایک سکھ نے ایسا کیا۔لیکن جب مسلمان کہلانے والوں میں سے کسی سے ایسا فعل سرزد ہو تو اس کے متعلق یہ عنوان رکھے جاتے ہیں اسلامی گنڈے کا فعل ، قرآن کی تعلیم کا نتیجہ، محمد کی تعلیم کا اثر۔عیسائیوں کے جرم انجیل و توریت کی طرف منسوب نہیں کئے جاتے۔ان کے برے افعال کو حضرت مسیح علیہ السلام سے نسبت نہیں دی جاتی۔ہندوؤں کے جرائم ویدوں کی تعلیم ا نتیجہ نہیں بتایا جاتا۔حضرت رائم اور کرشن کی طرف منسوب نہیں کئے جاتے۔سکھوں میں سے اگر کوئی جرم کرے تو گرنتھ صاحب کی طرف منسوب نہیں کیا جاتا نہ سکھ گروؤں کی تعلیم کا اثر قرار دیا جاتا ہے۔مگر مسلمان کہلانے والوں کے جرم قرآن کریم کی صلى الله طرف اور رسول کریم ﷺ کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں، کیوں؟ اس لئے کہ مسلمان کمزور ہیں اور کوئی ان کی بات پوچھنے والا نہیں۔مگر مسلمانوں کو تو چاہئے کہ اپنی بے بسی اور بے کسی کو سمجھتے ہوئے ایسے افعال سے بچیں جن سے اسلام اور رسول کریم ﷺ کی ذات اقدس پر نا واجب اور ناجائز حملہ کا دروازہ کھلتا ہو۔وہ انسان جو ایک فرد کے جرم کو ساری قوم کی طرف منسوب کرتا ہے وہ ایک قاتل اور حملہ آور سے بھی زیادہ ظالم ہے کیونکہ حملہ آور ایک انسان پر حملہ کرتا ہے مگر اس نے ساری