سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 406
سيرة النبي عمال 406 جلد 2 زنجیریں کٹ جائیں گی اور اسلام کا سپاہی اپنے مولی کی خدمت کے لئے پھر آزاد ہو جائے گا اور ہندوؤں کی غلامی کے بند ٹوٹ جائیں گے۔اے بھائیو! ہمت اور استقلال سے اور صبر سے اپنی دینی اور تمدنی اور اقتصادی حالت کی درستی کی فکر کرو اور خدا تعالیٰ کی طرف سچے دل سے جھک جاؤ اور اس کی مرضی پر اپنی مرضی کو قربان کر دو اور اس کے ارادوں کے سامنے اپنے ارادوں کو چھوڑ دو۔اور اس کے کلام کی محبت کو اپنے دل میں جگہ دو اور اس کی شریعت کو اپنا شعار بناؤ۔اور اس کے ہر ایک اشارہ پر عمل کرنے کیلئے تیار رہو اور اپنے نفس کو بالکل مار دو۔تب وہ اپنا وعدہ الَّذِيْنَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا 1 کے ماتحت آپ کو اس راستہ پر چلائے گا جو اس کی مرضی کے مطابق ہے۔اور اپنی نصرت کا ہاتھ آپ کی طرف بڑھائے گا اور آپ کے بازو کو قوت بخشے گا اور آپ کے دشمنوں کو ذلیل کرے گا اور ہر اک میدان میں خواہ علمی ہو ، خواہ تمدنی ہو، خواہ اقتصادی ہو آپ کو فتح دے گا۔متواتر قربانی کی ضرورت ہاں ضرورت ہے تو اس بات کی کہ متواتر اور لگا تار قربانی کی جائے اور عقل سے کام لیا جائے اور خدا تعالیٰ کی نصرت پر نظر رکھی جائے اور بے فائدہ جوش سے اپنی قوتوں کو ضائع نہ کیا جائے اور خواہ مخواہ دشمن کے تیار کردہ گڑھوں میں نہ گرا جائے۔وہ لوگ جو مسلمانوں کو ہمیشہ اپنا غلام بنائے رکھنا چاہتے ہیں وہ گورنمنٹ سے ہمیں لڑوا کر ہماری طاقت کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔اور اس وقت جو مسلمانوں کی توجہ مذہبی، اقتصادی، تمدنی آزادی کی طرف ہو رہی ہے اس کا رُخ دوسری طرف پھیرنا چاہتے ہیں۔مگر میں امید کرتا ہوں کہ مسلمان اس دھو کے میں نہیں آئیں گے۔گورنمنٹ نے پیچھے جو کچھ بھی کیا ہو اس وقت وہ مسلمانوں کی جائز مدد کر رہی ہے۔اور اگر کسی جگہ بعض مجسٹریٹ مسلمانوں کی تکلیف کا موجب ہو رہے ہیں تو اس کی وجہ گورنمنٹ کی پالیسی نہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان مجسٹریٹوں کے دل ان ہندوؤں کی باتوں سے متاثر