سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 405 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 405

سيرة النبي عمال 405 جلد 2 دکھا ئیں اور جو وقت ان کے پاس فارغ ہوا سے تبلیغ اسلام پر خرچ کریں۔اگر دو چار ہزار آدمی تبلیغ کے لئے نکل کھڑا ہو اور ادنی اقوام کے گھروں پر جا کر شفقت اور ہمدردی سے ان کو اسلام کی دعوت دے تو اسلام کو کس قدر فائدہ ہوسکتا ہے۔اگر لوگ ملک میں پھر کر زمینداروں کو سادہ زندگی بسر کرنے کی تلقین کریں اور ہندو بنئے سے سودی قرض لینے سے منع کریں تو اسلام کو کس قدر تقویت پہنچ سکتی ہے۔اگر وہ اپنے فارغ وقت کو اپنے جاہل بھائیوں کو دین کی باتیں سمجھانے اور قومی ضروریات سے واقف کرانے پر لگا ئیں تو قومیت کو کس قدر نفع حاصل ہوسکتا ہے۔پھر میں کہتا ہوں کہ اگر وہ فارغ ہیں تو ہزاروں گاؤں جن میں سب سودا ہندو بنئے سے لیا جاتا ہے وہاں جا کر وہ ایک دکان کھول لیں اور اس طرح مسلمانوں کو ہندو دکاندار کے ذلت آمیز سلوک سے محفوظ کریں تو قومی احساس میں کس قدر ترقی ہوسکتی ہے۔کام کرنے کا وقت ہے نہ جیل خانہ جانے کا ہیں اے دوستو! یہ کام کا پس وقت ہے، جیل خانہ میں میں جانے کا وقت نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں میں اس وقت بیداری پیدا کر دی ہے اس بیداری سے فائدہ حاصل کرو۔یہ دن روز نصیب نہیں ہوتے پس ان کی ناقدری نہ کرو۔خدا تعالیٰ کا شکر یہ ادا کرو کہ اس نے دشمن کے ہاتھوں آپ لوگوں کو بیدار کر دیا۔اب جلد سے جلد اسلام کی ترقی اور مسلمانوں کی بہبودی کے کاموں میں لگ جاؤ۔اس وقت ہر ایک جو مسلمان کہلاتا ہے اس کے میدان عمل میں آنے کی ضرورت ہے۔جیل خانہ میں لوگوں کو بھرنے کا موقع نہیں بلکہ ان کو ان میں سے نکالنے کا موقع ہے۔دشمن آپ لوگوں کی کوششوں کو دیکھ کرگھبرا رہا ہے۔وہ محسوس کر رہا ہے کہ اب آپ نے اس کے مخفی حملہ سے بچنے کا صحیح ذریعہ معلوم کر لیا ہے۔پس وہ تلملا رہا ہے اور اپنے شکار کو ہاتھوں سے جاتا دیکھ کر سٹپٹا رہا ہے۔ایک تھوڑی سی ہمت ، ایک تھوڑی سی کوشش ، ایک تھوڑی سی قربانی کی ضرورت ہے کہ صدیوں کی پہنی ہوئی