سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 391
سيرة النبي عل الله 391 جلد 2 کتنے دشمن ہوں وہ انہیں اسلام اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منکروں پر ترجیح دے گا اور تبلیغ اسلام کو اپنا مقدم فرض سمجھے گا۔اور اس کے متعلق مالی اور جسمانی اور اخلاقی امداد پر کمر بستہ رہے گا۔اور ہندوؤں سے ان تمام امور میں چھوت چھات سے کام لے گا جن میں وہ مسلمانوں سے چُھوت چھات کرتے ہیں۔اور حتی الامکان مسلمانوں سے ہی سودا خریدنے کی کوشش کرے گا۔اور مسلمانوں کی ہر قسم کی دکانیں کھلوانے کا ہمیشہ خیال رکھے گا۔اور سود سے پر ہیز کرے گا۔اور اگر وہ اس خلاف شرع کام میں مبتلا ہو چکا ہے تو اپنے علاقہ میں کو آپریٹو ( Co-operative) سوسائٹی کھلوا کر اس سے لین دین رکھے گا تا کہ ہندوؤں کی غلامی سے آزاد ہو جائے اور رفتہ رفتہ سود کی لعنت سے بھی بچ سکے۔اور اگر وہ ملازم ہے تو حتی الامکان مسلمانوں کے پامال شدہ حقوق انہیں دلوانے کی کوشش کرے گا۔اور اگر ایسے مقدمات پیش آتے ہیں تو وہ مقدور بھر مسلمان وکیلوں کے پاس جائے گا۔اور ان مٹھی بھر مسلمان حکام کی عزت کی حفاظت کا ہمیشہ خیال رکھے گا کہ جنہیں بردارانِ وطن ہر طرح کا نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔اور اسلامی اخبارات کو مضبوط کرنے کی کوشش کرتا رہے گا اور اسلامی لٹریچر کی اشاعت میں ہر ممکن طریق سے حصہ لے گا۔اور مسلمانوں میں صلح اور آشتی پھیلانے اور ان میں سے تفرقہ دور کرنے کی کوشش کرتا رہے گا۔یہ وہ کام ہے جس کی اسلام کو اس وقت سخت ضرورت ہے۔اور یہ وہ قربانی ہے جس سے اسلام کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔یہ کام یقینا لڑ کر مر جانے سے ہزار درجے بڑھ کر مشکل ہے۔پنجاب کے ہر شہر میں جوش سے بڑھ بڑھ کر جان دینے والے آدمی ایک دن میں ہی پیدا کئے جا سکتے ہیں لیکن اس قربانی کے لئے جو لمبی اور نہ ختم ہونے والی قربانی ہے بہت ہی کم آدمی اس وقت میسر آ سکتے ہیں۔لیکن اسلام کو فتح اسی طرح نصیب ہوگی اور اسے غلبہ اسی طرح حاصل ہو گا۔پس اس کی طرف توجہ کرو اور خدا پر توکل کر کے اٹھ کھڑے ہو۔جوست ہیں انہیں ہوشیار کرو اور جو سور ہے ہیں انہیں جگاؤ اور جو کمزور