سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 392 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 392

سيرة النبي علي 392 جلد 2 ہیں انہیں سہارا دو اور جو روٹھے ہوئے ہیں انہیں مناؤ۔اور خدا کی راہ میں ہر ایک ذلت برداشت کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ کہ عزت وہی ہے جو خدا کی طرف سے ملتی ہے اور معزز وہی ہے جس کی قوم معزز ہوتی ہے۔یادر ہے کہ دنیا کی تمام دولتیں اور تمام عزتیں آپ کو اُس وقت تک حقیقی عزت نہیں بخش سکتیں جب تک کہ آپ کی سب قوم معزز نہیں ہو جاتی۔یہ تو اصلی کام ہے۔باقی رہا وقتی کام سو اس کے لئے میرے نزدیک بہترین تجویز یہ ہے کہ اول تو جلد سے جلد ایک وفد ہز ایکسیلنسی (His Excellency) گورنر پنجاب کے پاس جائے اور انہیں اس امر کی طرف توجہ دلائے کہ مسلم آؤٹ لگ کے ایڈیٹر اور مالک کو فوراً آزاد کیا جائے اور اس وفد میں ہر فرقہ کے لوگ اور تمام پنجاب کے نمائندے شامل ہوں۔میں نے اس غرض سے ہز ایکسیلنسی کو چٹھی بھی لکھوائی ہے۔میں نہیں سمجھتا کہ اس وفد کو ملنے سے انہیں کیا عذر ہو سکتا ہے۔پس ہمیں امید رکھنی چاہئے کہ ہمارے معقول مطالبے کو منظور کرنے میں گورنمنٹ کو کوئی اعتراض نہ ہوگا۔اور اگر بفرض محال اس میں کوئی دقت محسوس ہوئی تو اس کے متعلق اس وقت کے پیدا ہونے پر غور کیا جا سکے گا۔دوسری تدبیر یہ ہے کہ ایک محضر نامہ تمام پنجاب اور دہلی اور سرحدی صوبہ کے لوگوں کی طرف سے گورنمنٹ کے پیش کیا جائے جس میں اس سے پُر زور مطالبہ کیا جائے کہ وہ کنور دلیپ سنگھ صاحب حج ہائی کورٹ پنجاب کے فیصلے کے اثر کو مٹا کر فوراً اس امر کا انتظام کرے کہ آئندہ رسول کریم ﷺ کی شان میں کوئی شخص ایسے الفاظ استعمال نہ کرے جو اس مصنف کے خبث باطن اور نا پاک فطرت کو نہایت ہی گندے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے مسلمانوں کی دل شکنی کا موجب ہوں۔بلکہ نہ صرف آپ کے لئے بلکہ تمام مذاہب کے بزرگوں کی عزت کی حفاظت کے لئے مناسب تدابیر اختیار کرے۔اسی طرح گورنمنٹ سے یہ مطالبہ بھی کیا جائے کہ وہ صلى