سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 390 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 390

سيرة النبي الله 390 جلد 2 اے بھائیو! اس وقت ہندوستان میں اسلام کی زندگی اور موت کا سوال پیش ہے اور اس وقت ہماری ذرا سی کو تا ہی ہمیں خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب بنا دے گی۔پس اس بیداری کو جو خدا تعالیٰ نے مسلمانوں میں پیدا کی ہے رائیگاں نہ جانے دو۔چاہئے کہ ہم اس شخص کی طرح کام نہ کریں کہ جسے سوتے سے جگایا جاتا ہے تو اٹھ کر جگانے والے کو مار کر پھر لیٹ جاتا ہے بلکہ ہماری بیداری حقیقی بیداری ہو اور ہم ان کاموں میں بڑے زور سے لگ جائیں جو اسلام کی ترقی اور مسلمانوں کی بہبودی کے لئے ضروری ہیں۔اسلام کی زندگی آپ کی موت سے نہیں بلکہ آپ کی زندگی سے وابستہ ہے۔یہ نہ خیال کرو کہ اس وقت تک ہماری زندگی سے اسلام کو کیا فائدہ پہنچا ہے کیونکہ اس وقت تک آپ کی زندگی غفلت کی زندگی تھی حقیقی زندگی نہ تھی۔اسلام کے لئے زندگی بسر کر کے دیکھو تو تھوڑے ہی دنوں میں سب غلامی کے بند ٹوٹنے لگ جائیں گے اور ذلت کی گھڑیاں جاتی رہیں گی۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دلوں میں غیرت کا چشمہ پھوڑ دیا ہے جو روز بروز ایک زبر دست دریا کی شکل میں تبدیل ہوتا جاتا ہے۔اس دریا کے پانی کو پھیلنے نہ دو کہ وہ اس طرح ضائع ہو جائے گا اور پھر یہ دن میسر نہ ہوں گے۔اس دریا کو اس کے کناروں کے اندر رہنے دو اور اسلام کے دشمنوں کے کھودے ہوئے گڑھوں کی وجہ سے جو آبشاریں بن رہی ہیں ان سے بجلی لے کر ایک نہ دینے والی طاقت پیدا کرو تا خدا آپ پر راضی ہو اور آئندہ آنے والی نسلیں آپ پر فخر کریں۔میرے نزدیک ہر ایک اسلام کا درد رکھنے والے کا اس وقت یہ فرض ہے کہ اس موقع پر بجائے وقتی جوش دکھانے کے وہ یہ عہد کرے کہ وہ آئندہ قرآن کریم کو اپنا ہادی بنائے گا اور اسلام کے احکام کے مطابق زندگی بسر کرے گا اور مسلمانوں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھے گا اور مسلمانوں کی ہر قسم کی مدد کے لئے آمادہ رہے گا اور اسلام کی طرف منسوب ہونے والوں سے لڑائی جھگڑے کو بند کر دے گا اور خواہ وہ اس کے