سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 389 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 389

سيرة النبي عمال 389 جلد 2 سے گریز کرنے والا آدمی مجرم ہے اسی طرح وہ شخص بھی مجرم ہے جو بے موقع جان دے کر اسلام کی طاقت کو کمزور کرتا ہے۔ہر شخص جو اسلام کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرتا ہے اسلام کی چھت کے نیچے کا ایک ستون ہے اور اس کا ٹوٹنا اسلام کے لئے مضر۔پس ہر ایک شخص جو بے جا جوش میں آکر اپنے آپ کو تباہ کرتا ہے اسلام کو نقصان پہنچانے والا ہے نہ کہ فائدہ پہنچانے والا۔پس میں خلوص دل اور گہری محبت کے جذبات سے متاثر ہو کر آپ لوگوں سے کہتا ہوں کہ یہی وقت اپنے جذبات کو قابو میں رکھنے کا ہے۔اسلام کی حالت پر نظر کرتے ہوئے ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے اور مسلمانوں کے فوائد کا خیال کرتے ہوئے آج ہر قسم کے ایسے افعال سے اجتناب کریں جو گو آپ کے جوشوں کو تو نکال دیں لیکن اسلام کی طاقت کو نقصان پہنچا دیں۔اے بھائیو! وہ دو بہادر اور وفادار جو آج قید خانے کو زینت دے رہے ہیں ان میں سے ایک یعنی مسلم آؤٹ لگ“ کا ایڈیٹر میرا روحانی فرزند ہے اور ایک مخلص احمدی ہے اور آپ لوگ جانتے ہیں کہ کس بہادری سے اس نے غیرت اسلامی کا ثبوت دیا ہے۔اس کا اور اس کے بھائی کا قید میں رہنا مجھے جس قدر شاق گزر سکتا ہے اس کا انداز ہ دوسرے لوگ نہیں کر سکتے۔اسی طرح میری صحت کمزور ہے اور آج کل تو روزانہ بخار ہوتا ہے مگر اس حالت میں بھی دن اور رات موجودہ اسلامی مشکلات کی فکر میں اور ان کے دور کرنے کی تدابیر میں لگا رہتا ہوں۔پس میں جو کچھ کہتا ہوں محض اسلام کی عزت اور آپ لوگوں کے فائدہ کے لئے کہتا ہوں۔خدا اور اس کے رسول کے لئے جس وقت جان دینا ہی ضروری ہوگا اُس وقت اگر میں زندہ ہوا تو اِنشَاءَ اللهُ تَعَالٰی میں سب سے آگے ہوں گا اور خدا کے فضل سے کسی کو آگے نکلنے نہیں دوں گا۔لیکن عقل کہتی ہے کہ اس وقت ہمارے فوائد اس امر سے وابستہ ہیں کہ ہم حُسنِ تدبیر سے اور گورنمنٹ کے ساتھ صلح رکھ کر اپنے مقاصد کو حاصل کریں۔