سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 388 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 388

سيرة النبي علي 388 جلد 2 ہو۔اس عرصے میں ورتمان کے رسالے میں ایک مضمون شائع ہوا اور میں نے اس کی طرف ایک اشتہار کے ذریعہ سے توجہ دلائی اور گورنمنٹ نے اس رسالہ کو ضبط کرنے کے علاوہ اس کے ایڈیٹر اور مضمون نگار پر مقدمہ چلا دیا۔یہ مقدمہ اب ہائی کورٹ میں پیش ہے اور اس کے فیصلے پر یا تو قانون کی وہ تشریح قائم ہو جائے گی جو اب تک سمجھی جاتی رہی ہے یا پھر گورنمنٹ قانون کی تشریح کر دے گی کہ آئندہ کسی حج کو اس قانون کے وہ معنے کرنے کا موقع نہ ملے جو کہ کنور دلیپ سنگھ صاحب نے کئے تھے۔میں نے قانون دان لوگوں سے معلوم کیا ہے کہ کتاب ”رنگیلا رسول“ کے مصنف کے خلاف پریوی کونسل میں اپیل نہیں ہو سکتی۔کیونکہ پر یوی کونسل یہ فیصلہ کر چکی ہے کہ اس کے سامنے ایسے ہی مقدمات آنے چاہئیں جن میں کسی شخص کی بریت یا سزا میں تخفیف کی خواہش کی گئی ہو اور سزا کی زیادتی یا سزا دینے کے متعلق اپیلوں کو سننے کے لئے وہ تیار نہیں۔پس یہی راستہ گورنمنٹ کے لئے کھلا تھا کہ وہ ایک نیا مقدمہ چلائے اور اس کا موقع اُسے ورتمان“ کے مضمون سے مل گیا ہے اور الْحَمْدُ لِلَّهِ کہ اللہ تعالیٰ نے یہ موقع میرے ذریعہ سے بہم پہنچا دیا۔ان حالات میں آپ لوگ اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ اس معاملے میں ہماری تکلیف کا موجب گورنمنٹ نہیں بلکہ جیسا کہ گورنر صاحب صاف کہہ چکے ہیں گورنمنٹ اس معاملہ میں مسلمانوں کو مظلوم مجھتی ہے اور ان سے ہمدردی رکھتی ہے لیکن وہ ہند و جو اس وقت فساد کے درپے ہیں چاہتے ہیں کہ کسی طرح گورنمنٹ سے ہمیں لڑا کر اپنا کام نکالیں اور گورنمنٹ کی نظروں میں مسلمانوں کو فسادی ثابت کر کے اس کی ہمدردی کو اپنے حق میں حاصل کر لیں۔اے بھائیو! آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اگر وہ اس کوشش میں کامیاب ہو جائیں تو اسلام کے لئے کس قدر مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔بے شک بعض لوگ کہہ دیں گے کہ ہم جانیں دے دیں گے مگر میں کہتا ہوں کہ کیا بے فائدہ جان دے دینے سے اسلام کا نفع ہو گا یا نقصان؟ یقیناً جس طرح موقع پر جان دینے