سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 387
سيرة النبي علم 387 جلد 2 فیصلہ نہ بدلے اُس وقت تک یہی فیصلہ ملک کا قانون ہے۔مسلم آؤٹ لگ نے اس فیصلہ پر جرح کی اور اس کے ایڈیٹر اور مالک کو ہتک عدالت کے جرم میں قید خانے میں داخل کر دیا گیا ہے۔اب ہمارا کام یہ ہے کہ :۔(1) ان لوگوں کو قید سے رہا کرائیں کہ جن کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی حفاظت میں قید کیا گیا۔(2) فیصلے کو جلد سے جلد بدلوائیں۔(3) ان حالات کی اصلاح کرائیں جن کی وجہ سے اس قسم کی ہتک آمیز تحریرات لکھی گئیں اور ان کے لکھنے والے بری کئے گئے۔آپ خوب اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں کہ حکومت ہمارے اختیار میں نہیں ہے اور نہ ہم اکیلے ہی ہندوستان کے باشندے ہیں۔حکومت انگریزوں کے اختیار میں ہے اور ہندوستان کی آبادی کا اکثر حصہ ہندو ہے۔پس ہم خود کچھ کر نہیں سکتے اور گورنمنٹ کو بھی دخل دیتے وقت اس امر کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اس کے فیصلے کا آبادی کے دوسرے حصہ اور زیادہ حصہ پر کیا اثر پڑتا ہے۔پس بغیر اس کے کہ ہم حسن تدبیر سے کام لیں ہمارے لئے کامیابی ناممکن ہے۔اور اگر ہم جوش میں اپنے آپ کو ہلاک بھی کر دیں تو اس سے اسلام کو کوئی فائدہ نہ ہوگا بلکہ رسول کریم ﷺ کو گالیاں دینے کا دروازہ اور بھی کھل جائے گا۔پس ہمیں چاہئے کہ اپنی عقل کو قائم رکھتے ہوئے ان تدابیر کو اختیار کریں جو موجودہ مشکلات کو حل کر دیں اور مسلمانوں کی موجودہ ذلت کو عزت سے بدل دیں۔آپ سب لوگوں کو معلوم ہو گا کہ گورنر صاحب پنجاب نے بڑے زور دار الفاظ میں کنور دلیپ سنگھ صاحب کے فیصلہ کے خلاف آواز بلند کی تھی اور اس پر تعجب اور حیرت کا اظہار کیا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ وہ ضرور یا تو اس فیصلے کو بدلوائیں گے یا پھر قانون کی اصلاح کرائیں گے تا کہ آئندہ رسول کریم ﷺ کی ہتک کی کسی کو جرات نہ