سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 386 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 386

سيرة النبي علي 386 جلد 2 کہیں کا کہیں پھینک دیتا ہے۔ایک وقت وہ تھا کہ تمہارے رحم پر تمام دنیا تھی اور تم دنیا سے رحم کا سلوک کرتے تھے لیکن آج تم دنیا کے رحم پر ہو اور دنیا تم سے رحم کا سلوک نہیں کرتی۔آہ! وہ دن کیا ہوئے جب تم دنیا کے رکھوالے تھے اور کیا ہی اچھے رکھوالے تھے۔ہر قوم اور ملت کے بے کس تمہاری حفاظت میں آرام سے زندگی بسر کرتے تھے۔تمہارا نام انصاف کا ضامن تھا اور تمہاری آواز عدل کی کفیل۔مگر آج تم لاوارث اور بے یار و مددگار ہو۔اپنی عزت کی حفاظت تو الگ رہی اس پاک ذات کی عزت کی حفاظت بھی تم سے ممکن نہیں جس پر تمہارے جسم کا ہر ذرہ فدا ہے اور جس کی جوتیوں کی خاک بننا بھی تمہارے لئے فخر کا موجب ہے۔آسمان تمہارے لئے تاریک ہے اور زمین تمہارے لئے تنگ ہے۔اے بھائیو! کیا کبھی آپ نے اس امر پر غور کیا کہ یہ سب کچھ مسلمانوں کی اپنی سستیوں اور غفلتوں کا نتیجہ ہے ورنہ خدا تعالیٰ ہرگز ظالم نہیں۔یہ دن کبھی بھی نہ آتے اگر مسلمان اپنی سستیوں اور غفلتوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہ کرتے اور اپنی اصلاح کی فکر کرتے۔لیکن اب بھی کچھ نہیں گیا۔اگر اب بھی آپ لوگ ہمت سے کام لیں اور اللہ تعالیٰ سے صلح کر کے بجائے اس پر الزام لگانے کے اور یہ کہنے کے کہ اس نے ہمیں ذلیل کر دیا ہے اپنے عیب اور نقص کو محسوس کرنے لگیں اور اپنی سستیوں اور غفلتوں کو ترک کر دیں تو یقیناً یہ مصائب کا زمانہ بدل جائے گا اور یہ مشکلات کے بادل پھٹ جائیں گے۔اے بھائیو! آپ کو خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ بغیر عقل اور تدبیر سے کام لینے کے موجودہ مشکلات دور نہیں ہو سکتیں۔ہوگا وہی جس کے مستحق ہمارے اعمال ہمیں بنائیں گے۔اس وقت حالت یہ ہے کہ ہائی کورٹ کے ایک جج نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ انگریزی قانون کی رو سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت سے سخت ہتک کرنے والا شخص بھی قابل سزا نہیں۔یہ فیصلہ ہمارے نزدیک غلط ہے۔لیکن اس میں کیا شک ہے کہ صوبہ کی اعلیٰ عدالت کے ایک رکن نے یہ فیصلہ کیا ہے۔اور جب تک یہ