سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 382 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 382

سيرة النبي عالم 382 جلد 2 طرح جب مرد و عورت کے تعلقات ہوتے ہیں اور جب عیش وعشرت کرنے والے چاہتے ہیں کہ کسی قسم کا فکر ان کے پاس نہ آئے اور اسی غرض کے لئے شراب پیتے ہیں اُس وقت کے متعلق بھی آپ فرماتے ہیں یہ وقت بھی خدا تعالیٰ کو بھولنے کا نہیں۔اس وقت تم دعا کرو کہ تمہارے ملنے کا نتیجہ برا نہ پیدا ہو بلکہ اچھا پیدا ہو۔پس جو انسان میاں بیوی کے جائز تعلقات کے وقت بھی کہتا ہے رنگیلا پن مت اختیار کرو بلکہ اس موقع پر بھی خدا کو یاد رکھو، جو پردہ کا حکم دے کر عورتوں کو بالکل مردوں سے علیحدہ رہنے کا حکم دیتا ہے، جو شراب کا پینا قطعاً چھڑا دیتا ہے کیا اسے ان مذاہب کے پیروؤں کا جن میں شراب پینا جائز ہے، جن میں مرد اور عورتیں آزادی سے خلا ملا رکھتے ہیں، جن میں رنگیلا پن کی ساری باتیں پائی جاتی ہیں حق ہے کہ ایسے انسان پر اعتراض کریں؟ کیا ان اقوام کا فرد رسول کریم ﷺ کو رنگیلا کہہ کر اپنے سیاہ چہرہ کو آپ کے مصفی آئینہ میں نہیں دیکھتا ؟ یقیناً وہ اپنا ہی گند دیکھتا ہے یا پھر وہ پاگل خانہ میں بھیجے جانے کے قابل ہے۔وہ شخص جو اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ رسول کریم ﷺ نے شراب پینے سے بالکل روک دیا، پردہ کا حکم جاری کر دیا، کھانے پینے اور مرد وعورت کے جائز تعلق کے وقت خدا کو یاد رکھنے کی تلقین کی ، موت کو ہر وقت سامنے رکھنے کی ہدایت کی ، ہر وقت خدا کے جلال سے ڈرنے اور اس کی رحمت کی امید رکھنے کا سبق پڑھایا اور باوجود بادشاہ ہونے کے بغیر چھنے اور پتھروں سے کوٹ کر بنے ہوئے آئے پر گزارہ کیا آپ کی طرف رنگیلا پن منسوب کرتا ہے وہ اگر اول درجہ کا خبیث اور جھوٹا نہیں تو اول درجہ کا پاگل ضرور ہے اور پاگل خانہ میں بھیجنے کے قابل ہے۔ان حالات کے ماتحت جو قوم رسول کریم ﷺ پر اعتراض کرتی اور الزام لگاتی ہے اس کے دماغ میں نقص اور عقل میں فتور ہے یا وہ ملک میں فتنہ پیدا کرنا چاہتی ہے۔میں دعا کرتا ہوں کہ اگر ایسی قوم پاگل ہو گئی ہے تو خدا تعالیٰ اس کے جنون کو دور کرے اور اگر شرارت کر رہی ہے تو اس کے فتنے کو مٹائے۔ورنہ اگر یہی حالت رہی تو اتنے فتنے