سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 381
سيرة النبي الله 381 جلد 2 عورت اس طرح ایک دوسرے سے نہ ملا کریں کسی رنگیلے کی تعلیم ہو سکتی ہے؟ اگر نَعُوذُ باللهِ رسول کریم محلے میں رنگیلا پن ہوتا تو چاہئے تھا کہ آپ کہتے عورتوں مردوں کو خوب محفلیں گرم کرنی چاہئیں اور ایک دوسرے کے ساتھ ملنے سے کوئی پر ہیز نہیں کرنا چاہئے۔آپس میں خوب جنسی تسفر کرنا چاہئے۔مگر آپ نے یہ فرمایا کہ مرد و عورت علیحدہ علیحدہ رہیں اور نامحرم کی شکل تک نہ دیکھیں۔کیا اس کو رنگیلا پن کہا جا سکتا ہے؟ پھر رنگیلا پن کی یہ خاصیت ہے کہ جس میں پایا جائے وہ کسی قسم کی ہیبت اور خوف کو اپنے اوپر مستولی نہیں ہونے دیتا۔مگر رسول کریم ﷺ کی ذات کو دیکھو۔صبح و شام، رات دن خدا تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں اور اس کثرت سے کرتے ہیں کہ فرانس کا ایک مشہور مصنف لکھتا ہے محمدعلی لے کے متعلق خواہ کچھ کہو مگر اس کی ایک بات کا مجھ پر اتنا اثر ہے کہ میں اسے جھوٹا نہیں کہہ سکتا۔اور وہ یہ کہ رات دن، اٹھتے بیٹھتے سوائے خدا کے نام کے اس کی زبان سے کچھ نہیں نکلتا اور ہر لمحہ اور ہر گھڑی وہ خدا کی عظمت اور اس کی محبت کو پیش کرتا ہے۔وہ لکھتا ہے میں کس طرح مان لوں کہ یہ شخص جو سب سے زیادہ خدا تعالیٰ کو پیش کرنے والا ہے خدا پر افترا باندھتا ہے۔اب یہ ایک دشمن کی گواہی ہے جس نے رسول کریم ﷺ کی زندگی کو تنقید کے طور پر مطالعہ کیا۔پس جب کہ رسول کریم علی صد الله ہر وقت اس طرف توجہ دلاتے رہے کہ ایک بالا ہستی ہے، اس کی شان اور عظمت بیان کرتے رہے، اس کے جلال اور جبروت سے ڈراتے رہے تو کیونکر تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ آپ میں (نَعُوذُ بِاللهِ) رنگیلا پن پایا جاتا تھا۔پھر میں کہتا ہوں رنگیلا پن کا موقع کھانے پینے یا مرد عورت کے تعلقات کا ہے۔مگر اس وقت بھی رسول کریم ﷺ یہ تعلیم دیتے ہیں کہ جب کھانے بیٹھو تو خدا کا نام لو۔جب کوئی چیز پینے لگو تو خدا کا نام لو کہ یہ سب چیزیں اسی نے تم کو عطا کی ہیں۔اسی