سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 380 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 380

سيرة النبي عالم 380 جلد 2 میں پوچھتا ہوں کیا وہ انسان جس نے شراب کو ایک ملک کے ملک سے ایک حکم کے ساتھ ایسے طور پر مٹا دیا کہ پھر کسی نے اس کا نام نہ لیا اور اس قوم سے شراب چھڑائی کہ جو کم سے کم دن رات آٹھ دفعہ شراب پیتے تھے اور اس پر فخر کرتے تھے اس کی طرف رنگیلا پن منسوب کیا جا سکتا ہے؟ اگر وہ رنگیلا کہلا سکتا ہے تو ہندوؤں کے بزرگ جو شراب سے منع نہیں کرتے تھے بلکہ خودشرا ہیں پیتے تھے کیا کہلائیں گے؟ رنگیلا پن کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ ایسا انسان انجام کی کوئی فکر نہ رکھے۔لیکن محمد ﷺ کی تعلیم کو پڑھو اور پھر بتاؤ کیا اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے۔اس کتاب میں جو آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ملی دیکھو کس طرح انسان کو بار بار موت یاد دلائی گئی ہے اور کس طرح آپ اپنے ماننے والوں کو تلقین فرماتے ہیں کہ اٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے ، چلتے پھرتے موت کو یاد کرو۔کیا دنیا کی کوئی کتاب ایسی ہے جو عاقبت سے اتنا ڈراتی ہو جتنا قرآن کریم ڈراتا ہے؟ قرآن کریم کا حجم ویدوں سے، بائبل سے اور ژرند اوستا سے بہت کم ہے اور میرے نزدیک تمام ان کتابوں سے کم ہے جنہیں خدا کی سمجھا جاتا ہے۔مگر میں چیلنج دیتا ہوں کہ جس قدر قرآن میں انجام اور عاقبت کے متعلق ڈرایا گیا ہے اس کا چوتھا حصہ ہی کسی اور کتاب سے نکال کر دکھا دیا جائے تو میں اپنی شکست تسلیم کرلوں گا۔اگر کوئی نہیں دکھا سکتا تو میں پوچھتا ہوں کیا جس انسان میں رنگیلا پن پایا جائے اور جو انجام سے لا پرواہ ہو اس کے حرکات وسکنات میں ، اس کی گفتگو میں، اس کی تعلیم میں کیا اس قدر انجام کا خیال رکھنے کی تعلیم ہوسکتی ہے؟ پھر رنگیلا پن میں عورتوں سے تعلق بھی شامل ہے۔لیکن ذرا بتایا تو جائے کہ دنیا میں کونسی کتاب اور کونسا مذ ہب اور کونسا انسان ایسا ہے جس نے پردہ کا حکم دیا ہو اور اُس وقت دیا ہو جب کہ عورت و مرد آپس میں خلا ملاح رکھتے ہوں ، عورتوں کی صحبتوں سے لذت اٹھاتے ہوں، بغیر کسی جھجک اور حجاب کے کھلے طور پر ایک دوسرے سے ملتے ہوں۔کیا ان سب باتوں سے روک کر پردہ کا حکم جاری کرنا اور یہ کہنا کہ مرد و