سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 379
سيرة النبي عمال 379 جلد 2 اس کی حالت ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس کتاب کا مصنف خود رنگیلا ہے جسے نہ خدا کا خوف ہے نہ دنیا کا ڈر۔ورنہ رسول کریم علیہ کی زندگی کو جب دیکھا جائے تو اس کا کوئی حصہ ایسا نہیں نظر آتا جس میں رنگیلا پن کا شائبہ بھی پایا جائے اور اس بات کو دشمن بھی مانتے ہیں۔میں نے بتایا ہے رنگیلا اسے کہا جاتا ہے جو شراب میں بدمست رہے اور اس طرح زندگی بسر کرے کہ بدمستی یا لا ابالی میں کسی وجہ سے دنیا کے غموں کو اپنے پاس نہ آنے دے۔پس پہلی چیز رنگیلے شخص کے لئے بدمستی ہے۔لیکن ہر شخص جسے عقل سے ذرا بھی مس ہو وہ جانتا ہے کہ دنیا سے شراب کا مٹانے والا ایک ہی شخص ہے یعنی محمد۔اگر نعوذ باللہ آپ میں رنگیلا پن ہوتا تو اُس وقت جب کہ اس کتاب کے لکھنے والے کے باپ دادا مٹکوں کے منکے شراب کے اڑاتے تھے بلکہ دیوی دیوتاؤں کو بھی پلاتے تھے اُس وقت محمد علی یہ شراب کی ممانعت کا حکم نہ دیتے۔مگر اُس زمانہ میں کہ آپ کی قوم دن رات شراب میں مست رہتی تھی آپ نے شراب کی ممانعت کا حکم دیا۔آپ کے اس حکم کا اثر اور تصرف دیکھو۔کچھ لوگ ایک جگہ بیٹھے شراب پی رہے تھے اور نشہ کی حالت میں تھے کہ باہر سے آواز آئی شراب حرام کر دی گئی۔اُس وقت ایک شخص نے جو اس مجلس میں شامل تھا کہا اٹھ کر پوچھو تو سہی کہ اس بات کی تفصیل کیا ہے۔مگر اس نشہ کی حالت میں ایک دوسرا شخص سونا اٹھا کر شراب کے مٹکے پر مارتا ہے اور کہتا ہے کہ جب ایک شخص کہہ رہا ہے کہ شراب حرام ہو گئی ہے تو اب میں پہلے مشکا توڑوں گا پھر پوچھوں گا کہ کیا کہتا ہے۔آواز یہ آئی ہے کہ محمد علی نے شراب حرام کر دی۔اگر یہ بات غلط بھی ہے تو بھی میں پہلے مٹکا توڑوں گا پھر اس کی تصدیق کروں گا۔چنانچہ وہ مٹکا تو ڑ دیتا ہے اور پھر پوچھتا ہے کیا رسول کریم ﷺ نے شراب حرام کردی؟ جب بتایا جاتا ہے کہ ہاں آپ نے شراب حرام کر دی تو سب پکار اٹھتے ہیں اچھا ہم نے شراب چھوڑ دی۔