سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 378 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 378

سيرة النبي عمال 378 جلد 2 ہے کہ مسلمانوں کے اپنے دل بھی مانتے ہیں کہ ان کے رسول کی زندگی میں ایسے نقص پائے جاتے ہیں جن کی وجہ سے جائز طور پر نکتہ چینی کی جاسکتی ہے۔گویا کتاب رنگیلا رسول“ شائع کرنے والا تو یہ لکھتا ہے کہ اس کے اپنے نزدیک یہ نقص آپ میں پائے جاتے ہیں۔مگر پرتاپ یہ کہتا ہے کہ مسلمان خود بھی مانتے ہیں کہ ان کے رسول میں نقص پائے جاتے ہیں۔اب میں اس کتاب کو لیتا ہوں۔اس کتاب کا لکھنے والا رسول کریم ﷺ کا نام رنگیلا رکھتا ہے۔اور رنگیلا ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو عواقب زمانہ کا خیال نہ رکھتا ہو، اپنی زندگی عیش و عشرت میں گزارتا ہو، انجام اور عاقبت کو کچھ وقعت نہ دیتا ہو۔چنانچہ ہندوستان کے ایک بادشاہ محمد شاہ کا نام رنگیلا رکھا گیا تھا۔جس کی وجہ یہ ہے کہ جب اس پر غنیم چڑھ کر آیا اور اس کی خبر اس تک بذریعہ تحریر پہنچائی گئی تو اس نے اس کاغذ کو شراب کے پیالہ میں ڈال دیا۔آخر اسے اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔اس وجہ سے اس کا نام رنگیلا ہو گیا کیونکہ اس نے عواقب پر نظر نہ کی بلکہ شراب و کباب اور عورتوں کی صحبتوں میں مصروف رہا۔رسول کریم ﷺ کو نعوذ باللہ رنگیلا کہہ کر یہی الزام اس کتاب والا آپ پر لگاتا ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا رسول کریم ﷺ پر کوئی عقلمند ایسے الزام لگا سکتا ہے۔ہر شخص جو آپ کی زندگی کے حالات سے واقف ہو جانتا ہے کہ سوائے اس شخص کے جو خودشراب کی ترنگ میں ایسی کتاب لکھے اور کوئی یہ الزام آپ پر نہیں لگا سکتا۔اور یہ دیکھا گیا ہے کہ شرابی جب شراب پی کر مخمور ہو جاتے ہیں تو دوسروں سے کہتے ہیں ہم تو ہوش میں ہیں تم نشہ میں ہو۔یہی اس شخص کا حال ہے جس نے یہ کتاب لکھی۔واقعی اس نے شراب کے نشہ میں یا فطرت کی گندگی کی وجہ سے اپنے نفس کے عیب اس مصفی آئینہ میں دیکھے جس سے بڑھ کر نہ کوئی مصفی آئینہ پیدا ہوا اور نہ ہوگا۔جس طرح ایک بدشکل اور سیاہ رو جب شیشہ میں اپنی شکل دیکھے تو سمجھے کہ یہ شیشہ کا قصور ہے اسی طرح