سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 358
سيرة النبي الله 358 جلد 2 رسول کریم علیہ کی ذات اقدس پر نا پاک حملوں کا جواب حضرت مصلح موعود نے 24 جون 1927 ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا :۔قُلْ إِنْ كَانَ أَبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَاَمْوَالُ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِّنَ اللهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللهُ بِأَمْرِهِ وَاللهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْفُسِقِيْنَ 1 - اس آیت کو اُس خطبہ جمعہ میں جو میں نے ڈلہوزی کے مقام پر پڑھا تھا تلاوت کرتے ہوئے مجھے معلوم نہ تھا کہ ہماری جماعت کے ایک فرد کو بھی اسی قسم کا ایک موقع پیش آنے والا ہے جس نے اسی آیت کے حکم کے ماتحت اپنے آرام و آسائش کو رسول کریم اللہ کی عزت کے لئے قربان کر دیا۔اللہ تعالیٰ کے ابتلاؤں اور آزمائشوں کی خواہش کرنا اسلام کے بالکل خلاف ہے لیکن جب کسی کی خدا تعالیٰ کی طرف سے آزمائش ہو اور وہ اس میں پورا اترے تو ایسا انسان اس بات کا مستحق ہوتا ہے کہ اسے مبارک دی جائے کہ اس نے حق ادا کیا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّنْتَظِرُ2 اور فرماتا ہے خدا کی راہ میں مرنے والوں کو مردہ مت کہو ، وہ زندہ ہیں۔جو خدا کی راہ میں جان دیتا ہے اسے کیوں مردہ کہہ کر دوسروں کے دلوں میں ڈر اور خوف پیدا کرتے ہو۔اللہ تعالیٰ کی