سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 359

سيرة النبي عل الله 359 جلد 2 رضا کے لئے اور اس کے دین کی عظمت کے لئے تکلیف اٹھانا خوشی اور مسرت کا موجب ہے۔ایسا انسان اتنا ہمدردی کا مستحق نہیں جتنا مبارکباد کا مستحق ہے۔میں سمجھتا ہوں ہماری جماعت کے بہت سے لوگوں کے دلوں میں جوش پیدا ہوتا ہوگا کہ اس وقت جب کہ رسول کریم ﷺ کی عزت پر نا پاک سے ناپاک حملے کئے جا رہے ہیں اور آپ کی عزت کی حفاظت کے لئے موجودہ قانون میں کوئی طاقت نہیں ہے وہ کیا صلى الله کریں۔کون سی قربانیاں کریں جن سے رسول کریم ﷺ کی عزت دشمنوں کے حملوں سے محفوظ ہو جائے۔میں سمجھتا ہوں ہم میں سے ہر وہ شخص جس نے بچے طور پر احمد بیت کو قبول کیا ہے رشک کرتا ہو گا ان لوگوں پر جن کو خدا تعالیٰ کے رستہ میں تکلیف اٹھانے کا موقع ملا اور وہ اس بات کی تڑپ رکھتا ہو گا کہ اسے بھی خدا تعالیٰ ایسے کام کرنے کی توفیق دے جن سے اس کا ایمان کھرا ثابت ہو۔اور خود اس پر بھی اور دوسروں پر بھی ظاہر ہو جائے کہ خدا تعالیٰ کی ذات، اس کی صفات، اس کی قدرت، اس کی طاقت پر اسے ایسا یقین ہے کہ کوئی خطرہ اور کوئی خدشہ اسے اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکتا۔لیکن ایسے سب لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے قوانین اور اس کی حکمتوں کے ماتحت صبر سے کام لینا پڑتا ہے۔اس زمانہ میں جس طرح متواتر رسول کریم ﷺ کی ہتک کثرت سے کی جارہی اور کثرت سے پھیلائی جا رہی ہے اس کی نظیر پہلے کسی زمانہ میں نہیں ملتی۔آپ کے خلاف گندی کتابیں پہلے بھی لکھی گئیں مگر وہ دل آزاری میں اتنی بڑھی ہوئی نہ تھیں جتنی اب ہیں۔اس کی دو وجہیں ہیں۔ایک تو یہ کہ اُن کی اشاعت اتنی نہ ہوئی جتنی اس وقت کی جاتی ہے۔دوسرے اُس وقت لکھنے والے محض گالیوں پر اکتفا کرتے تھے مگر اب ایسے سائنٹیفک طریق استعمال کئے جاتے ہیں کہ ان کی بدزبانیوں کی قلب پر چوٹ پڑتی ہے۔پس کیا بلحاظ تواتر کے اور کیا بلحاظ مضامین کے اور کیا بلحاظ اشاعت کے اور کیا بلحاظ اس کے کہ قوم کی قوم ایسے لوگوں کے پیچھے کھڑی ہے پہلے زمانہ کے