سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 23

سيرة النبي علي 23 جلد 2 صلى الله اس لئے جانا چھوڑ دیا تھا کہ وہ بوڑھی ہو گئی تھیں حالانکہ حدیثوں سے یہی ثابت ہے کہ اس عورت نے خود رسول کریم ﷺ کو کہا تھا کہ میں اپنی باری عائشہ کو دیتی ہوں 3۔بے شک روایت کیا جاتا ہے کہ اس بیوی کے دل میں ڈر پیدا ہو گیا تھا کہ صلى الله ایسا نہ ہو کہ رسول کریم ہے مجھے بوجہ بڑھاپے کے طلاق دے دیں اور ممکن ہے یہ بات درست ہو۔عورتیں بعض دفعہ اپنی کمزوری کے باعث اس قسم کے وہموں میں مبتلا ہو جاتی ہیں مگر رسول کریم ﷺ کے دل میں یہ خیال کبھی پیدا نہیں ہو سکتا تھا اور نہ ہوا۔آپ کی عمر کا ایک ایک لحظہ اور ایک ایک دقیقہ اس افترا کی تردید کرتا ہے، اس بہتان کو رد کرتا ہے اور اس خیال کو دھکے دیتا ہے۔بد بخت ہے وہ انسان جو محمد رسول اللہ ﷺ کا متبع کہلا کر ایسا خیال دل میں لاتا ہے اور اندھا ہے وہ آدمی جو محمد رسول اللہ ﷺ کی زندگی کو دیکھتے ہوئے پھر اس پر یقین کرتا ہے۔رسول کریم ﷺ کی شادی چھپیس برس کی عمر میں حضرت خدیجہ سے ہوئی تھی اور اُس وقت حضرت خدیجہ کی عمر 40 سال کی تھی۔حضرت خدیجہ چونسٹھ سال کی عمر میں فوت ہوئیں اور اُس وقت آنحضرت علی اللہ کی عمر 49 سال کی تھی۔مگر دوست اور دشمن شاہد ہیں کہ آپ نے حضرت خدیجہ سے ایسا برتاؤ کیا جس کی نظیر دنیا میں بہت کم ملتی ہے۔حضرت سودہ سے آپ کی شادی حضرت خدیجہ کے بعد ہوئی اور ان کی وفات 54 ہجری میں ہوئی ہے۔چونکہ ان کی عمر کا صحیح اندازہ مجھے معلوم نہیں میں سن وفات سے اندازہ لگا تا ہوں کہ اگر وہ سو سال کی عمر میں فوت ہوئی ہوں تو 44 سال جو وہ رسول کریم ع کے بعد زندہ ہیں نکال کر ان کی عمر آنحضرت ﷺ کی وفات کے وقت 56 سال بنتی ہے۔اب کیا کوئی شخص خیال کر سکتا ہے کہ وہ شخص جس نے پچاس سالہ عمر میں 64 سالہ بیوی سے نهایت و فادارانہ گزارہ کیا تھا وہ اپنی 63 سالہ عمر میں 56 سالہ بیوی کو اس لئے طلاق دینے پر آمادہ ہو جاوے گا کہ وہ بوڑھی ہوگئی ہے۔اِنْ هَذَا إِلَّا إِفْكٌ مُّبِينٌ - پس اگر اس روایت میں کوئی حقیقت ہے تو حضرت سودہ کے خیال سے زیادہ