سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 22

سيرة النبي علي 22 جلد 2 کرتا قیامت کے دن وہ ایسے حال میں اٹھے گا کہ اس کا آدھا دھڑ ہوگا اور آدھا نہیں 1۔اور کون کہہ سکتا ہے کہ وہ آدھا دھڑ کون سا ہوگا ؟ وہ جس میں دل ہے یا وہ جس میں دل نہیں۔پس یہ وہ حکم ہے جس پر مخالفین کی طرف سے بڑے شور سے اعتراض کئے جاتے ہیں اور جس کے متعلق مسلمان اپنے عمل سے مخالفین کو اعتراض کرنے کا موقع دے رہے ہیں۔رسول کریم ﷺ نے بیویوں کے حقوق کے متعلق خاص تاکید فرمائی ہے اور اس معاملہ میں اس قدر تشدد کیا ہے کہ جب آپ مرض الموت میں تھے اور نماز کے لئے بھی باہر نہیں آسکتے تھے تو اپنی سب بیویوں کو جمع کر کے کہا کہ اگر تمہاری اجازت ہو تو میں کسی ایک گھر میں رہوں۔یہ تھی آپ کی احتیاط۔اس کو نادان اور اندھی دنیا شہوت رانی کہتی ہے۔چنانچہ سب نے اجازت دی 2 اور خدا نے چاہا کہ وہ آپس میں سے اسی کو چنیں جس کو خدا نے سب پر فضیلت دی تھی اور وہ عائشہ تھیں۔حضرت عائشہ کے گھر جانے کے تین چار روز بعد آپ فوت ہو گئے۔بیویوں کے متعلق یہ طرز عمل تھا اس انسان کا جس پر اعتراض کئے جاتے ہیں اور مسلمانوں کی طرف سے کرائے جاتے ہیں کیونکہ مسلمانوں میں سے آدھا حصہ عورتیں ہیں جو کہتی ہیں کہ ایک سے زیادہ بیویوں میں عدل نہیں کیا جاسکتا۔اور صرف عورتیں ہی نہیں کہتیں مرد بھی کہتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوسکتا۔کیونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ جو لوگ مسلمانوں میں سے ایک سے زیادہ عورتیں کرتے ہیں وہ ان میں عدل نہیں کرتے۔پس سوچے اور غور کرے وہ مسلمان اور سوچے اور غور کرے وہ احمدی جو عیسائیوں کو کہتا ہے کہ تمہارے مذہب میں ایسی تعلیم پائی جاتی ہے جس پر عمل نہیں کیا جاسکتا لیکن وہ خود اپنے عمل سے بتاتا ہے کہ اسلام میں بھی ایسی تعلیم ہے جس پر عمل نہیں ہو سکتا۔رسول کریم ﷺ پر ایک بیوی کے بعض نادان بعض حدیثوں کی بنا پر صلى الله کہہ دیا کرتے ہیں کہ رسول کریم متعلق اعتراض اور اس کا جواب ﷺ نے بھی ایک بیوی کے گھر