سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 347 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 347

سيرة النبي عل الله 347 جلد 2 ہمیں ایک لمحہ کے لئے بھی اس امر کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے کہ ہمارا جھگڑا اس وقت ہندوؤں سے ہے اور ان میں بھی درحقیقت آریہ سماجیوں سے۔وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہندوستان میں کامل آزادی نہیں حاصل کر سکتے جب تک کہ مسلمان اس ملک میں باقی ہیں۔وہ ہندوستان میں برہمنگ قانون کو جاری کرنا چاہتے ہیں جو برطانوی اور اسلامی قانون آزادی کے بالکل برخلاف ہے۔اور وہ جانتے ہیں کہ اس اختلاف کی وجہ سے جب بھی ہندو اپنے مقصد کو پورا کرنا چاہیں گے انگریز اور مسلمان مل کر ان کے راستہ میں روک بنیں گے۔وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ان دو طاقتوں کے مقابلہ میں وہ کچھ نہیں کر سکتے۔پس وہ پہلے مسلمانوں کو کمزور کر کے نکما کرنا چاہتے ہیں اس کے بعد وہ انگریزوں سے نپٹیں گے۔مگر اس تحریک کے بانی ہوشیار بھی بہت ہیں۔وہ مسلمانوں اور انگریزوں کو لڑوانا چاہتے ہیں اور بسا اوقات انگریز ان کے فریب میں آکر مسلمانوں کو اپنا دشمن سمجھنے لگتے ہیں۔اور بعض اوقات مسلمان کسی بات پر مشتعل ہو کر انگریزوں کو اپنا مخالف خیال کرنے لگتے ہیں۔مگر ہمیں اس دھو کے میں نہیں آنا چاہئے۔میرے نزدیک انگریزوں اور مسلمانوں کے اکثر اختلافات کا اب فیصلہ ہو چکا ہے۔آئندہ تمدنی جنگ میں یہ دونوں مل کر اپنے اپنے حقوق کی حفاظت اچھی طرح کر سکتے ہیں۔انگلستان کی نجات مسلمانوں سے صلح رکھنے میں ہے اور مسلمانوں کا فائدہ انگریزوں سے تعاون کرنے میں۔ہم سب دنیا سے نہیں لڑ سکتے۔رسول کریم ﷺ نے بھی مشرکوں کے مقابلہ میں اہل کتاب سے معاہدہ کیا تھا1۔پھر کوئی وجہ نہیں کہ ہم تدابیر اختیار نہ کریں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ باوجود بیسیوں قسم کے عیوب کے انگریزی قوم تمام موجودہ غیر اسلامی اقوام سے ہمارے زیادہ قریب ہے اور درحقیقت دوسری قوم صرف روسیوں کی ہے جو اسلام کوسختی سے مٹا رہی ہے جیسا کہ احمدی مبلغوں اور دوسرے بہت سے ایسے مسلمانوں کی عینی شہادت سے ثابت ہے جو پہلے برطانوی حکومت کے سخت دشمن تھے۔مگر میں کہتا ہوں کہ جو لوگ سیاسی طور پر میرے اس خیال