سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 348 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 348

سيرة النبي ع 348 جلد 2 سے متفق نہ ہوں ان کو بھی ضرور یاد رکھنا چاہئے کہ اس موجودہ مسئلہ میں ہمیں برطانیہ کے قائم مقاموں سے کوئی جنگ نہیں ہے۔میری سکیم جس قدر پیش کردہ تجاویز ہیں ان کے نقائص بیان کرنے کے بعد میں اپنی تجاویز کو پیش کرتا ہوں۔میرے نزدیک ہمیں قدم اٹھانے سے یہ غور کر لینا چاہئے کہ ہمارا مقصد اس وقت کیا ہے۔میرے نزدیک ہمارا مقصد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کی حفاظت ہے۔مسلم آؤٹ لگ کا معاملہ اس مقصد کے حصول کی جدوجہد کا ایک ظہور ہے۔پس ہمیں بجائے اس پر اپنا زیادہ وقت خرچ کرنے کے اس سے جس قدر ممکن ہو فائدہ اٹھانا چاہئے۔مسلم آؤٹ لگ کے فیصلہ نےمسلمانوں کی آنکھیں ان کی بے بسی کے متعلق کھول دی ہیں۔لوہا گرم ہے اس کو اس طرح گوٹنا ہمارا کام ہے کہ اس سے اسلام کے لئے کارآمد اشیاء تیار ہوسکیں۔ہمارا یہ بھی فرض ہے کہ اس کام کو جاری ہی نہ رکھیں بلکہ ترقی دیں جو مسلم آؤٹ لگ کرتا تھا۔اور اس کے لئے میں اپنی جماعت کی طرف سے آٹھ سو روپیہ کی امداد کا اعلان کرتا ہوں۔میرے نزدیک کم سے کم پانچ ہزار روپیہ اس کام کے لئے جمع کر دینا چاہئے اور یہ روپیہ مسلم آؤٹ لک کی ترقی پر خرچ ہونا چاہئے اور مسلم آؤٹ لگ کے خریداروں کے بڑھانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ہندوؤں کو یہ جرات کیوں ہوئی ؟ اس کے بعد اصل معاملہ کے متعلق یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دوسرے بزرگان اسلام کو عموماً اور حضرت رسول کریم علیہ کو خصوصاً گالیاں دینے کی جرات ہندوؤں کو صرف ان کے اقتصادی اور تمدنی غلبہ کی وجہ سے ہے۔وہ اس غلبہ کے بعد ہماری غیرت کو مٹا کر ہمیں شو در بنانا چاہتے ہیں۔میں ان پر اعتراض نہیں کرتا۔ہر ایک قوم کا حق ہے کہ اپنے مفاد کے لئے ہر ممکن جد و جہد کرے لیکن ساتھ ہی ہر اس قوم کا بھی جس کے مفاد کے خلاف اس کے کاموں کا اثر پڑتا ہو حق ہے کہ اپنے حقوق کی حفاظت کرے۔