سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 346
سيرة النبي علي 346 جلد 2 اس امر کے لئے آگے بھیجا گیا تو یہ قابل شرم ہو گا اور انتہائی درجہ کی قومی غداری ہوگی۔اور اگر بڑے بڑے سب لوگ اس طرح جیل خانوں میں چلے گئے تو اسلام کو نقصان پہنچانے والے اور بھی خوش ہوں گے۔انہیں ہندوستان میں اسلام کو نقصان پہنچانے اور اپنی من مانی کا رروائیاں کرنے کا اور بھی موقع مل جائے گا۔پس یہ تدبیر بھی قابل عمل نہیں ہے۔سکھوں کی کو ششوں پر قیاس نہیں کرنا چاہئے کیونکہ وہاں عملی جدوجہد تھی۔وہ ایک گوردوارہ میں زبردستی گھس جاتے تھے۔اگر سر کار سب کو نہ پکڑتی تو گوردوارہ ہاتھ سے جاتا تھا۔اگر پکڑتی تو جیل خانے کفایت نہ کرتے تھے۔لیکن یہاں تو صرف بعض الفاظ کے دہرانے کا سوال ہے۔بغیر کسی قسم کے نقصان کے خطرہ کے ہائی کورٹ ہزاروں آدمیوں کے فعل کو نظر انداز کر سکتا ہے۔سول نافرمانی تیسری تدبیر سول نافرمانی بتائی جاتی ہے۔علاوہ اس کے کہ میں اس تدبیر کا مذہباً مخالف ہوں عقلاً بھی میرے نزدیک اس تدبیر کو اختیار کرنا درست نہیں۔سول نافرمانی ہائی کورٹ کے خلاف نہ ہو گی بلکہ گورنمنٹ کے خلاف ہو گی اور گورنمنٹ کا اس معاملہ میں کوئی قصور نہیں ہے۔گورنمنٹ اس وقت اس معاملہ میں ہمارے ساتھ ہے۔گورنر صوبہ بڑے زور دار الفاظ میں ہائی کورٹ کے فیصلہ پر استعجاب ظاہر کر چکے ہیں اور اس کو منسوخ کرانے کی ہر ممکن تدبیر اختیار کرنے کا وعدہ کر چکے ہیں۔وہ بے شک بوجہ غیر مذہب کے پیرو ہونے کے اور قانون کی الجھنوں کے اس طرح جلدی سے عمل نہیں کر سکتے جس طرح کہ ہمارے دل چاہتے ہیں لیکن وہ ظاہر کر چکے ہیں کہ ان کا مقصد اور ہمارا مقصد اس قانون کے بارہ میں ایک ہی ہے۔پس سول نافرمانی کرنے کے یہ معنی ہوں گے کہ ہم گورنمنٹ کو جو اس معاملہ میں ہم سے اتفاق رکھتی ہے اپنا مخالف بنا لیں۔لیکن سول نافرمانی چونکہ گورنمنٹ کے خلاف ہوگی وہ اس چیلنج کو قبول کئے بغیر نہیں رہ سکے گی اور اس طرح ہم اپنے ہاتھوں سے ہندوؤں کے تیار کردہ گڑھے میں گر جائیں گے جس میں ہمیں گرانا ان کی عین خواہش ہے۔