سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 21
سيرة النبي ع 21 جلد 2 ایک انسان کی کئی بیویاں ہوں تو ان میں سے کسی ایک کے ساتھ دوسری بیویوں کی نسبت زیادہ محبت ہوگی اور بعض دفعہ ہو سکتا ہے کہ کسی ایک عورت سے کسی سبب سے نفرت بھی ہو مگر باوجود اس کے جو شخص اپنی سب بیویوں سے یکساں سلوک کرتا ہے ایسے شخص کو کس طرح شہوت ران کہا جا سکتا ہے۔کیا نفس کی قربانی کے معنی شہوت رانی ہوتے ہیں ؟ اگر نہیں تو ایک سے زیادہ بیویوں سے مساوی سلوک کرنا بہت بڑی نفس کی قربانی ہے۔اور جو شخص مذہبی، قومی، یا ملی فوائد کو مدنظر رکھ کر یہ بوجھ اٹھاتا ہے وہ فدائے قوم سمجھا جائے گا نہ کہ شہوت ران۔اور جو شخص اپنی ذاتی ضروریات کو مدنظر رکھ کر ایک سے زیادہ نکاح کرتا ہے لیکن سب بیویوں سے برابر کا سلوک کرتا ہے وہ بھی شہوت ران نہیں بلکہ اپنے نفس پر قابو رکھنے والا انسان کہلائے گا۔غرض میں نے جو ایک سے زیادہ بیویاں کرنے پر زور دیا ہے تو صرف اس غرض سے کہ اس سے اسلام کے اس حکم کو صاف کیا جائے اور رسول کریم ﷺ پر سے اعتراض مٹایا جائے۔وَاللهُ عَلَى مَا أَقُولُ شَهِيدٌ۔مگر میں دیکھتا ہوں تعدد ازدواج کے متعلق مسلمانوں کا برا نمونہ کہ مسلمان ہی اس مسئلہ میں برانمونہ دکھا کر دوسروں کے لئے ٹھوکر کا موجب بن رہے ہیں۔عیسائیوں کی عورتیں آکر مسلمان عورتوں کو کہتی ہیں کہ مسلمان دوسری شادی کر کے عورتوں پر بڑا ظلم کرتے ہیں اور سو میں سے ننانوے مسلمان عورتیں ایسی ہیں جو کہتی ہیں کہ ہاں واقعہ میں ہم پر یہ بہت بڑا ظلم ہے اور یہ کہہ کر وہ کافر ہو جاتی ہیں کیونکہ شریعت اسلام پر ظلم کا الزام لگاتی ہیں۔مگر میں پوچھتا ہوں اس کا ذمہ دار کون ہے؟ وہی جن کی وجہ سے عورتوں کو اس اعتراض کا موقع ملا اور وہی جنہوں نے اپنی نفس پرستی کی وجہ سے دشمنوں کو محمد ملنے پر اعتراض کا موقع دیا اور اسلام پر ہنسی اڑائی۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے جو شخص دو بیویاں کر کے ان سے مساوی سلوک نہیں