سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 330
سيرة النبي عمال کہتا۔330 جلد 2 لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس فطری تقاضا کی وجہ سے میں نے اس کے خلاف آواز اٹھائی۔اور خدا کا فضل ہے کہ وہ رسالہ ضبط ہو گیا اور اس مضمون کا لکھنے والا اور اس رسالہ کا ایڈیٹر دونوں گرفتار ہو گئے۔اور بعد میں ہمارا اشتہار بھی ضبط ہو گیا۔لیکن ہمارے سامنے یہ بات نہیں کہ زید یا بکر قید ہو جائے۔اس سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ہمیں فائدہ اگر ہے تو اس میں کہ کوئی ایسی ناپاک آواز سننے والا نہ رہے جیسی اس رسالہ میں بلند کی گئی ہے۔کیونکہ قاعدہ ہے کہ دنیا میں کوئی آواز نہیں اٹھتی جب تک اس کے اٹھانے والے کو یہ معلوم نہ ہو کہ اس آواز کو سننے والے موجود ہیں۔پس ہمارا فائدہ اس میں نہیں کہ کوئی قید ہو جائے بلکہ اس میں ہے کہ کوئی اس آواز کو سننے والا نہ رہے۔جس شخص کے پیچھے خدا تعالی کی آواز محرک کے طور پر نہیں ہوتی وہ کوئی ایسی آواز نہیں اٹھاتا جسے قبول کرنے والے لوگ موجود نہ ہوں سوائے اس کے کہ وہ پاگل ہو۔پس ورتمان“ کے ایڈیٹر اور اس کے نامہ نگار جیسے لوگ جب گندے اور ہتک آمیز فقرے استعمال کرتے ہیں تو اس میں کوئی شک نہیں کہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ پبلک میں سے ایک حصہ ضرور ان کے فعل کو بنظر استحسان دیکھے گا اور اسے کار ثواب سمجھے گا۔پس جنہوں نے مضمون لکھا اور شائع کیا اور جنہوں نے اسے بنظر استحسان دیکھا ان میں فرق یہ ہے کہ پہلوں نے اپنے خیالات کو ظاہر کر دیا اور دوسروں نے انہیں دماغ پر کندہ کیا ہوا تھا۔یہ دونوں ہمارے لئے برابر ہیں۔کسی وفات یافتہ شخص کے متعلق ایک جماعت کا یہ سمجھتے رہنا کہ وہ چور ہے اور ایک جماعت کا اسے ظاہر کر دینا اس کی حقیقی عزت کو مدنظر رکھتے ہوئے برابر ہے۔اصل چیز دل ہے۔اگر دلوں میں کسی کے حسن کی قدر نہیں اور اس کا اعتراف