سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 331 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 331

سيرة النبي عمال 331 جلد 2 نہیں تو سمجھ لینا چاہئے کہ وہ حسن جلوہ گر نہیں ہوا۔پس جب تک کہ قلوب کی اصلاح نہ کی جائے اور ان میں یہ یقین نہ پیدا کیا جائے کہ آنحضرت ﷺ کی زندگی ایسی پاک ہے کہ اس کا نمونہ دنیا میں ملنا ناممکن ہے اُس وقت تک ہمیں خوش نہیں ہونا چاہئے۔اگر ایسے اشخاص کو جو آپ ﷺ کے متعلق برے الفاظ استعمال کرتے ہیں اور ہتک آمیز فقرے لکھتے ہیں جیسے کہ ور تمان“ اور اس کے نامہ نگار نے لکھے۔دو نہیں ، دس نہیں ، سونہیں، پچاس ہزار سال کے لئے بھی گورنمنٹ قید کر سکتی ہو اور ایسا کر دے تو اس سے ایک مسلمان کو کوئی خوشی نہیں ہو سکتی کیونکہ جس شخص نے رسول کریم ﷺ کے متعلق الله الله اپنے برے خیالات کو ظاہر کیا ہے اس نے رسول کریم ﷺ کے متعلق کوئی نیا پہلو اختیار نہیں کیا بلکہ صرف ہمارے احساسات کو صدمہ پہنچایا ہے اس لئے اس کے قید ہونے سے رسول کریم ﷺ کی عزت نہیں بڑھتی بلکہ جو صدمہ ہمارے احساسات کو پہنچایا گیا تھا اس کا ازالہ ہوتا ہے۔چنانچہ گورنمنٹ کا قانون بھی اسی پر دلالت کرتا ہے۔گورنمنٹ کا قانون یہ نہیں کہ ایک معزز شخص کو برا کہنے پر ایسا آدمی سزا پاتا ہے بلکہ یہ ہے کہ چونکہ وہ اس بزرگ کے ماننے والوں کے دلوں کو تکلیف دیتا ہے اس لئے اسے سزا دی جاتی ہے۔پس سزا رسول کریم ﷺ کی عزت کی حفاظت کے لئے نہیں ہے بلکہ ہمارے احساسات کی حفاظت کے لئے ہے اور جو شخص رسول کریم علی کی بدگوئی کرنے والے کی سزا پر خوش ہو جاتا ہے وہ رسول کریم ﷺ کی عزت پر اپنے صلى الله احساسات کو مقدم کرتا ہے۔ہمیں کسی کے قید ہونے پر نہیں بلکہ اس امر پر خوشی ہونی چاہئے کہ رسول کریم ﷺ کی پاکیزہ زندگی کے متعلق جو لوگوں کو بدظنیاں پیدا ہو رہی ہیں وہ دور ہو جائیں اور اپنی تمام تر کوششیں ہمیں اسی امر کے لئے صرف کر دینی چاہئیں۔پس میں اپنی جماعت کے دوستوں کو بھی اور دوسرے مسلمانوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ ہمارے لئے یہ کوئی خوشی نہیں کہ ”ورتمان“ کا ایڈیٹر یا اس کا نامہ نگار قید ہو جائیں اور پھر یہ بھی تو ابھی معلوم نہیں کہ