سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 329
سيرة النبي عالم 329 جلد 2 رسول کریم ﷺ کی بلندشان ہند و رسالہ ” در تمان“ نے رسول کریم علیہ کی شان میں گستاخانہ طرز عمل اختیار کیا۔اس کے جواب میں 10 جون 1927ء کو خطبہ جمعہ دیتے ہوئے حضرت مصلح موعود نے فرمایا:۔پچھلے دنوں میں نے درس کے موقع پر قادیان میں ایک رسالہ کا ذکر کیا تھا جس میں رسول کریم ﷺ کی ذات بابرکات کے متعلق اس قدر گندے الفاظ استعمال کئے گئے تھے جو کسی شریف الطبع انسان کی زبان اور قلم سے نہیں نکل سکتے۔ایسے الفاظ کا استعمال خود استعمال کرنے والے کی گندی فطرت پر تو دلالت کرتا ہے لیکن ان کا اثر اس شخص پر کچھ نہیں پڑ سکتا جس کو برا کہا گیا۔مگر باوجود اس کے ہر اس شخص کا جو اس ذات سے تعلق محبت رکھتا ہو جسے برے الفاظ سے یاد کیا گیا ہو فرض ہے کہ وہ اپنے محبوب اور محسن کی ہتک کے برخلاف آواز اٹھائے۔گوجیسا کہ میں نے بتایا ہے اس کی گالیوں کا اثر آنحضرت ﷺ پر نہیں پڑ سکتا۔چاند پر تھوکنے والا چاند پر تھوک نہیں ڈال سکتا۔وہ تھوک اس کے ہی منہ پر پڑتی ہے۔آنحضرت ﷺ کی شان تو وہ ہے جس کے سامنے چاند اور سورج بھی گرد ہیں۔ایک غیر متلو الہام کے ذریعہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الْافُلاكَا اگر تیرے جیسے عظیم الشان انسان کی پیدائش مدنظر نہ ہوتی تو میں زمین اور آسمان کو بھی پیدا نہ کرتا۔پس زمین اور آسمان کی پیدائش جس وجود کی وجہ سے ہوئی اسے گالیاں دینا اور برا بھلا کہنا اس کی ہتک نہیں بلکہ اس شخص کی اپنی ہتک ہے جو گالیاں دیتا اور برا بھلا