سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 311
سيرة النبي عالم 311 جلد 2 رہی ہو اپنے گھر کے دروازے بند کرے، زرہ اتار دے، ہتھیار الگ کر دے، چار پائی پر لیٹ جائے ، لحاف اوڑھ لے اور منہ سے کہے ہمارے بادشاہ کا ملک وسیع ہو جائے ، اسے فتح حاصل ہو تو کون اسے عقلمند اور بادشاہ کا خیر خواہ کہے گا۔جب جنگ شروع ہے تو اس کا فرض ہے کہ ہتھیار لگا کر باہر آئے اور لڑے۔پھر یہ کہے تو بادشاہ کا خیر خواہ کہلائے گا۔ورنہ اگر گھر میں بیٹھا رہتا ہے تو وہ انعام کا مستحق نہیں ، سزا کا مستحق ہے اور اس لائق ہے کہ سر بازار اس کے جوتے لگائے جائیں کیونکہ وہ جنگ کے وقت لحاف اوڑھ لیتا اور صرف منہ سے کہتا ہے ہمارے بادشاہ کا ملک وسیع ہو۔صرف منہ سے کہنے سے بادشاہ کا ملک وسیع نہیں ہو گا بلکہ جنگ کرنے سے ہوگا۔اگر وہ سچا ہے تو اسے چاہئے تھا کہ تلوار لے کر باہر آتا اور دشمن سے لڑتا۔لیکن بغیر لڑنے کے جو ایسا کہتا ہے جھوٹ کہتا اور سزا کے لائق۔ہے۔وسیلہ اور فضیلت یہ ہے کہ تبلیغ اور اصلاح کے ذریعہ رسول کریم ﷺ کو وہ مقام محمود حاصل ہو جو پہلے نبیوں کو نہیں ملا۔اور یہ اسی طرح ہوسکتا ہے کہ مثلاً اگر حضرت موسی دس آدمیوں کے متعلق کہیں کہ ان کو میرے ذریعہ ہدایت ہوئی تو محمد رسول اللہ ﷺ کئی ہزار کو پیش کر دیں کہ ان کو میرے ذریعے ہدایت ہوئی ہے۔حضرت موسی اگر ایک کروڑ کو لائیں تو آنحضرت ﷺے دس کروڑ کو لا کھڑا کریں کہ ان کو میرے ذریعے ہدایت ہوئی ہے اور میرے ذریعے انہوں نے اصلاح پائی ہے۔کیا یہ فضیلت ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھے رہنے سے حاصل ہوسکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔یہ تبلیغ اور نفس کی اصلاح سے ہی حاصل ہو گی۔دیکھو ایک شخص زمین میں دانہ ڈالتا نہیں اور غلہ کے لئے دعا کرتا ہے تو صرف دعا سے اس کا غلہ کیسے بڑھے گا۔مسلمان بھی جب تک کام نہ کریں اور جب تک تبلیغ نہ کریں کیسے بڑھ سکتے ہیں۔مسلمانوں نے اگر پہلے نہیں سمجھا تو اب اچھی طرح سمجھ لیں کہ یہ ان کا فرض ہے کہ وہ اٹھ کھڑے ہوں اور دنیا کا کوئی کونہ نہ رہ جائے جس میں پہنچ کر وہ تبلیغ اسلام نہ کر