سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 312
سيرة النبي علم 312 جلد 2 رہے ہوں۔اگر آنحضرت ﷺے ساری دنیا کی اصلاح کی تعلیم لائے تھے اور یقیناً لائے تھے تو مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اس رنگ میں اپنی اصلاح کریں کہ دنیا کے لوگ پکار اٹھیں محمد رسول اللہ ﷺ کیسے انسان تھے جنہوں نے اس قسم کے لوگ پیدا کر دیئے۔مگر افسوس ہے کہ مسلمان اپنی اصلاح کرتے ہیں اور نہ تبلیغ۔صلى الله یہ زمانہ اسلام پر بہت نازک زمانہ ہے اس میں خصوصیت سے آنحضر حملے ہو رہے ہیں۔جس طرح بھی ممکن ہو دشمن آپ کی ہر بات پر اعتراض کر کے اسے بڑی مشکل میں پیش کر رہے ہیں۔رنگیلا رسول کے مصنف کو اگر 18 ماہ کی قید ہوگئی تو صلى الله کیا اور اگر دس سال کی قید ہو جائے تو کیا۔کیا اس سے رسول کریم علیہ مقامِ محمود پر کھڑے ہو جائیں گے؟ یہ تو ایک سرکاری حج نے فیصلہ کیا ہے کہ رنگیلا رسول کے مصنف کو سزا دے کر ظاہر کیا کہ محمد رسول اللہ ہی ہے ان باتوں کے مستحق نہیں جو آپ کے متعلق کہی گئیں۔مگر یاد رکھو! رسول کریم علیہ انگریزوں کی یا کسی اور کی دی ہوئی تعریف کے ذریعہ مقام محمود نہیں پاسکتے۔سینکڑوں ہزاروں گالیاں دینے اور مذمت کرنے والوں میں سے اگر ایک شخص کو سزا مل گئی تو کیا ہوا۔اس طرح نہ وہ گالیاں دینی چھوڑے گا اور نہ ہی ایسے لوگ پیدا ہونے میں کمی ہوگی۔اس کا تو ایک ہی ذریعہ ہے کہ ا اگر مسلمان اپنے طریق سے یہ بات ثابت کر دیتے ، اپنے چال چلن سے یہ بات ثابت کر دیتے ہیں، اپنے تقویٰ اور دینداری سے یہ بات ثابت کر دیتے کہ وہ متقی اور پر ہیز گار ہیں، وہ دیانتدار ہیں، محنتی ہیں ، کوشش کرنے والے ہیں اور علوم وفنون میں ترقی کرنے والے ہیں تو لوگ خود ہی تعریف کرتے اور خود ہی آنحضرت ﷺ کی خوبیاں بیان کرتے۔پھر اگر ہزار رنگیلا بھی نکلتے تو ان کا کوئی اثر نہ ہوتا۔یا اگر مسلمان تبلیغ کے لئے کھڑے ہو جاتے اور ان لوگوں میں سے جو اعتراض کرتے ہیں لاکھوں کو مسلمان بنا لیتے تو مذمت کرنے والے کم اور مدح کرنے والے زیادہ ہو جاتے اور آنحضرت ﷺ کی حمد بڑھنی شروع ہو جاتی۔صلى الله