سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 310
سيرة النبي علي 310 جلد 2 اور نفس کی اصلاح رات دن کرتا رہتا ہے وہ تو حقدار ہے کہ کہے اے خدا! تو رسول کریم عملے کو مقام محمود پر کھڑا کر۔لیکن جو شخص نہ تبلیغ کرتا ہے اور نہ اپنے نفس کی اصلاح اس کا حق نہیں کہ کہے وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَّحْمُودًا۔کیا اس کی دعا اس کے منہ پر نہ ماری جائے گی کہ کیا سری گلی چیز لایا ہے؟ دنیا میں ایسے بے شمار لوگ ہیں جو رسول کریم ﷺ کو گالیاں دیتے ہیں تو ان میں تبلیغ نہیں کرتا، ان کو اسلام میں نہیں لا تا اور نہ اپنے نفس کی اصلاح کرتا ہے اور منہ سے کہتا ہے محمد رسول اللہ ﷺ کو مقام محمود عطا کر۔یہ تو تمہارا کام ہے کہ تم رسول کو اس مقام پر کھڑا کرو۔پس یہ ایک ایسی اعلیٰ درجہ کی دعا تھی جس میں مسلمانوں کو ان کی زندگی کا سارا کام بتا دیا گیا تھا۔مگر افسوس کہ الله مسلمان دن میں کئی بار پڑھنے کے باوجود اس کی حقیقت سے غافل ہیں۔اسلام کے ابتدائی ایام میں اس کی طرف توجہ ہوئی لیکن بعد میں سینکڑوں سال سے غفلت ہو رہی ہے۔اب احمدی جماعت نے پھر اس زمانہ میں اس کی طرف توجہ کی ہے۔مگر یہ سارے مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس وقت وہ اس دعوۃ تامہ میں لگ جائیں۔مسلمان کہتے ہیں اسلام وہ تلوار ہے جس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا پھر کیا مسلمانوں کا یہ کام نہیں کہ وہ اس تلوار کو لے کر گھروں سے نکلیں لیکن مسلمان اس طرف سے غافل ہیں۔کیا ایک شخص جو جانتا ہے کہ میرے ہتھیار تیز ہیں اور میری تلوار کا کاٹا بچتا نہیں وہ دشمن کے حملہ کرنے کے موقع پر گھر میں بیٹھا رہتا ہے؟ اگر واقعہ میں مسلمانوں کو یقین ہوتا کہ یہ وہ تلوار ہے جس کا کاٹا بچتا نہیں تو وہ ضرور اسے استعمال کرتے۔وہ مونہوں سے ہزار دفعہ اتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ ہیں۔و کہتے رہیں کہ اے خدا! تو آنحضرت ﷺ کو وسیلہ اور فضیلت دے۔مگر اس کا کیا فائدہ جب تک وہ ایسے کام نہیں کرتے جن سے رسول کریم ﷺ کو یہ مقام محمود مل سکتا ہے۔سوچو! آنحضرت ﷺ کو وہ مقام کیونکر ملے جس کا تعلق ہم سے ہے جب کہ ہماری طرف سے اس کے لئے کوشش نہیں ہوتی۔ایک جرنیل ایسے وقت میں جب لڑائی ہو ا۔وہ