سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 307

سيرة النبي علي 307 جلد 2 اس لئے مسلمان اس مقام محمود کے لئے دعا مانگتے ہیں نہ اس کے لئے جو جنت سے تعلق رکھتا ہے کیونکہ وہ تو آپ کو پہلے ہی مل چکا ہے۔یہ ہے اس دعا کی حکمت جسے مسلمانوں نے اس وقت تک نہیں سمجھا۔ہم مانتے ہیں کہ قیامت میں بھی آنحضرت عے کے لئے ایک مقام محمود مقرر ہے لیکن اس کے لئے ہماری دعاؤں کی ضرورت نہیں۔وہ تو آپ کو مل چکا۔ہاں جس کے لئے ہم دعا کرتے ہیں وہ ہمارے اعمال کے بدلے میں آپ کو ملنا ہے۔جو مقام محمود جنت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور جو آپ کومل چکا ہے اس کے لئے نہ کسی دعا کی ضرورت ہے اور نہ کسی کی بددعا سے وہ اب آپ سے واپس لیا جا سکتا ہے۔جس طرح کوثر آپ کو ملا، جس طرح دوسرے مقامات آپ کو ملے اسی طرح وہ بھی آپ کو مل گیا۔مگر وہ مقام محمود جس کے لئے دعا مانگی جاتی ہے وہ اس دنیا کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔پس ہمیں غور کرنا چاہئے کہ وہ کون سے ذرائع ہیں جن سے آنحضرت ﷺ کو یہ مقام محمود مل سکتا ہے۔اگر مسلمان خدا تعالیٰ کی باتوں پر سے اندھے ہو کر نہ گزر جاتے ، اگر مسلمان خدا کے رسول نے جو دعا سکھائی ہے اس کی حقیقت کو سمجھتے تو جان لیتے کہ کسی شخص کے لئے دو طرح کے ذرائع مقام محمود پر پہنچنے کے لئے ہوا کرتے ہیں۔پہلا یہ کہ دشمن اس کے نیست و نابود ہو جائیں اور یوں اس کی مذمت کرنے والے ہی نہ رہیں اور جب مذمت کرنے والے ہی نہ ہوں گے تو صرف تعریف کرنے والے رہ جائیں گے۔اس طرح اسے مقام محمود حاصل ہو جائے گا۔دوسرا طریق یہ ہے کہ دشمن کے لئے گرفت کا کوئی موقع نہ رہے یعنی اس کی زندگی اس قسم کی ہو کہ دشمن اس پر کوئی اعتراض نہ کر سکے۔یہ صورت اگر ہو تو پھر بھی اس کی تعریف ہی ہوتی ہے۔یہ دوطریق ہیں جن سے مقام محمود پر کوئی شخص کھڑا ہوسکتا ہے۔ان دو کے سوا تیسرا اور کوئی طریق نہیں جس سے کوئی شخص مقام محمود پر کھڑا ہو سکے۔اگر کسی کے دشمن نیست و نابود نہیں ہو گئے ، اگر اس کے مخالف اس کے ہم خیال نہیں ہو گئے تب بھی اس کی تعریف نہ ہوگی اور وہ