سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 306 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 306

سيرة النبي ع 306 جلد 2 صلى الله الْمِيعَادَ 1 میں مانگا جاتا ہے تو یہ کہنا غلط ہے کہ اے خدا ! تو وہ مقام آنحضرت عے کو عطا کر کیونکہ اس کے لئے ہماری دعاؤں کی ضرورت نہیں وہ تو آپ کو پہلے ہی مل چکا ہے۔پھر اب اس کے متعلق انسانی کوشش کا دخل ہی کیا رہ گیا۔دنیا کے وعدے تو ٹل سکتے ہیں کیونکہ ایسا ہو سکتا ہے کہ انسان کی غفلت اور کوتاہی کی وجہ سے وہ ٹلا دیئے جائیں لیکن جو بات پوری ہو چکی ہو وہ نہیں مل سکتی۔پس جنت کا مقام محمود تو رسول کریم ﷺ کومل چکا۔پھر اس کے متعلق یہ کہنا کہ ” اے خدا! تو آپ کو وہ مقام عطا کر!‘ بے فائدہ بات ہے۔دیکھو! ہم یہ کبھی نہیں دعا کرتے کہ اے خدا! تو رسول کریم کو کوثر عطا کر۔اسی طرح ہم یہ بھی دعا نہیں کرتے کہ تو دوسرے اعلیٰ اعلیٰ مقام آپ کو دے لیکن ہم مقام محمود کے لئے ہر روز دعا کرتے ہیں کہ اے خدا! تو آنحضرت ﷺ کو مقامِ محمود عطا کر۔جب رسول کریم ﷺ فوت ہو گئے تو اب کونسا خطرہ ہے کہ شاید مقام محمود آپ کو نہ ملے۔آنحضرت ﷺ کو جو مقام محمود جنت میں ملنے والا تھا مل گیا۔جس طرح اور اعلیٰ اعلیٰ مقامات آپ کو مل گئے اسی طرح مقام محمود بھی آپ کو مل گیا۔پس اگر وہ مقام محمود جو اس دعا میں مانگا جاتا ہے جنت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے تو اس کا تو تیرہ سو سال پہلے فیصلہ ہو چکا اور وہ رسول کریم ﷺ کومل چکا ہے۔پھر اب اس کے متعلق درخواست کرنے کا کیا مطلب؟ صلى الله حقیقت یہ ہے کہ مسلمان اس دعا میں آنحضرت ﷺ کے لئے جو مقام محمود مانگتے ہیں وہ مقام جنت کے ساتھ تعلق نہیں رکھتا بلکہ اس دنیا کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور ایسے رنگ میں تعلق رکھتا ہے کہ ہمارے اعمال کا بھی اس میں دخل ہے۔ور نہ اگر دخل نہ ہوتا تو ہمارے دعا مانگنے کی کیا ضرورت تھی۔پس یہ جو خطرہ ہے کہ شاید رسول کریم ﷺ کو مقام محمود نہ مل سکے وہ یہ ہے کہ ایک مقام محمود وہ بھی ہے جو الله۔امت محمدیہ کے اعمال کے ذریعہ رسول کریم علیہ کو ملنا ہے اور چونکہ یہ خطرہ اسی کے متعلق ہے کہ شاید ہماری کمزوریوں کی وجہ سے رسول کریم ﷺ اس سے محروم رہ جائیں