سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 308

سيرة النبي ع 308 جلد 2 صلى الله مقام محمود پر نہ ہو گا۔اور اگر اس کا کام نامکمل ہے تب بھی اس پر اعتراض ہوتے رہیں گے اور لوگ گرفت کرتے رہیں گے۔پس یہ دو باتیں ہیں جن سے کسی شخص کی حمد میں فرق آتا ہے کہ یا تو اس کے کام میں نقص ہو اور وہ غیر مکمل ہو یا اس کے دشمن قائم صلى الله رہیں۔اب ان دونوں باتوں کو مد نظر رکھ کر دیکھو کہ کیا رسول کریم ﷺ دنیا کے لحاظ سے مقام محمود پر پہنچ گئے ؟ اور دعوت تامہ اور صلوٰۃ قائمہ جو اس مقام محمود کے پانے کے دو ذریعے ہیں کیا مسلمانوں نے ان دونوں پر پورا پورا عمل کیا ؟ اگر نہیں تو صاف ظاہر ہے کہ رسول کریم ﷺ کو وہ مقام محمود حاصل ہونے میں جو ہمارے اعمال سے وابستہ ہے مسلمانوں کی بستیاں اور کوتاہیاں روک بنی ہوئی ہیں۔ایک شخص جب یہ دعا پڑھتا ہے تو یہ کہتا ہے اے خدا! تو نے ایسی بدا کی ہے جو تامہ ہے، جو لوگوں کو تیری طرف بلاتی ہے یہ تبلیغ ہے۔دوسری بات صلوۃ قائمہ ہے جس سے اصلاح نفس مراد ہے۔قائم اسے کہتے ہیں جس کا نفع قائم رہے اور اس کی ضرورت مندی نہ ہو۔کہتے ہیں بازار قائم ہے۔اس کا مطلب یہ ہوتا ہے خوب سودا بکتا ہے۔اسی طرح صلوٰۃ قائم ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیشہ اس کے فائدے قائم رہتے ہیں۔ان دونوں باتوں کو دیکھ کر ہم دعا کرتے ہیں اے خدا! جس کے وجود کے ذریعہ ہمیں یہ فائدے نصیب ہوئے اسے زیادہ قرب عطا کر اور اس کو وہ مقام محمود دے جو ہمارے اعمال کے ذریعہ ملنا ہے۔غرض اس دعا میں ایک طرف تو تبلیغ کی طرف توجہ دلائی ہے اور دوسری طرف اندرونی اصلاح کی طرف متوجہ کیا ہے۔اگر مسلمان اس کو سمجھ لیں اور تبلیغ کے کام میں لگ جائیں تو دنیا مسلمان ہوسکتی ہے۔اس طرح جب رسول کریم ﷺ کے حکم کو برا کہنے والا کوئی نہ رہے گا تو آپ اس مقام محمود پر کھڑے ہو جائیں گے جس کے لئے مسلمانوں کو یہ دعا سکھلائی گئی ہے یعنی آپ کو مقام محمود حاصل ہو جائے گا۔خدا مسلمانوں کو توفیق دے کہ رسول کریم علیے ان کے ذریعے اس مقام محمود پر کھڑے ہو