سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 303
سيرة النبي علي 303 جلد 2 رہیں؟ یقیناً ہم خاموش نہیں بیٹھ سکتے جب تک آپ لوگ تسلیم نہ کر لیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نہیں دیں گے۔گالیاں دینے والوں سے صلح نہیں ہوسکتی ہم لڑیں گے نہیں اور نہ ہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تعلیم ہے کہ لڑا جائے مگر ہم صلح بھی نہیں کر سکتے کہ ہمارے پیارے رسول کو گالیاں دی جاتی ہیں۔ہماری اُس وقت تک اس شخص سے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہے صلح نہیں ہو سکتی جب تک وہ گالیاں ترک نہ کرے۔بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود نے بھی ایک دفعہ فرمایا تھا کہ میں جنگل کے سانپوں سے صلح کرلوں گا لیکن اگر نہیں کروں گا تو ان لوگوں سے جو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے ، ان پر نا پاک حملے کرتے اور ان کے حق میں طرح طرح کی بدزبانی کرتے ہیں 2۔ہم صلح پسند ہیں لیکن ہم اس بات کو بھی پسند کرنے والے نہیں کہ صلح و آشتی کی تعلیم دینے والے کو برا کہا جائے۔ہم بہرے تھے اس نے ہمیں کان دیئے، ہم گونگے تھے اس نے ہمیں زبانیں دیں، ہم اندھے تھے اس نے ہمیں آنکھیں دیں، ہم راہ سے بھولے ہوئے تھے اس نے ہمیں راہ دکھائی۔خدا را! اسے گالیاں نہ دو۔غور کرو اس نے شرد ہانند جی کو مارا نہیں اور نہ مروایا ہے اس کا اس معاملے میں کوئی دخل نہیں پھر اسے کیوں گالیاں دیتے ہو۔جس نے مارا ہے اسے پکڑ لو۔ایک کو نہیں بہتوں کو پکڑ لو جیسا کہ تم نے پکڑا بھی اور ایک کو مار بھی ڈالا لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نہ دو۔“ 66 (ہندو مسلم فسادات، اُن کا علاج اور مسلمانوں کا آئندہ طریق عمل صفحہ 55 تا 60 مطبوعہ اسلامیہ سٹیم پریس لاہور 1927ء ) 1 : اسد الغابة في معرفة الصحابه جلد 2 صفحه 229 230 مطبوعہ بیروت 1285 ھ 2 پیغام صلح صفحہ 21 روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 489