سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 302
سيرة النبي علي صلى الله 302 جلد 2 میں نے قادیان سے بھی حضرت نبی کریم علی پر الزام مت دھرو اعلان کیا تھا کہ شرد ہانند جی " کے قتل کا فعل بہت برافعل ہے اور جس نے کیا اس نے کوئی اچھا کام نہیں کیا لیکن یہ ایک شخص کا انفرادی فعل ہے اسلام کو اس سے کوئی تعلق نہیں اور اسلام کو اس سے ملزم نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔مگر میں یہاں تک دیکھتا ہوں کہ آریوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا اور یہ اور بھی آگے بڑھے یہاں تک کہ ہمارے اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جس پر ہم اپنی عزت ، اپنی آبرو، اپنی جان ، اپنا مال اپنی اولادغرضیکہ ہر ایک شے قربان کرنے کو تیار ہیں پہلے سے بھی زیادہ گالیاں دینے لگ گئے ہیں۔میں بھی چونکہ مسلمان ہوں اور خدا کے فضل سے ان مسلمانوں میں سے ہوں جنہیں خدا تعالیٰ نے اس زمانہ میں اسلام کی خدمت کے لئے چن لیا میرے دل میں درد ہے اور سب سے بڑھ کر درد ہے۔میں نے جب دیکھا قادیان سے جو ہمدردی کی آواز میں نے اٹھائی تھی اس پر کان نہیں دھرا گیا تو میں نے محسوس کیا مجھے قادیان سے باہر جا کر یہ آواز لوگوں تک پہنچانی چاہئے اور میں اسی درد کو لے کر لاہور آیا ہوں اور میں اسی درد سے یہ لیکچر دے رہا ہوں اور چاہتا ہوں کہ آپ لوگ اسے توجہ سے سنیں اور جو میں کہتا صلى الله ہوں اسے مانیں۔اور میں سوائے اس کے کیا کہتا ہوں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کو گالیاں نہ دو اور ایک شخص کے فعل سے جسے ساری قوم بر ملا برا کہہ رہی ہے اس کی ساری قوم اور ہماری قوم کے پیشوا اور ہادی کو اس کا مجرم نہ ٹھہراؤ۔اگر آپ لوگوں کی عورتوں اور بیویوں اور بچوں اور ماؤں اور باپوں اور رشتہ داروں کو گالیاں دی جائیں اور ان پر عیب لگائے جائیں حالانکہ ان میں عیب ہوتے بھی ہیں تو کیا آپ خاموش رہ سکتے ہیں اور آرام سے بیٹھ سکتے ہیں؟ اگر نہیں تو کیا ہم سے ہی یہ توقع ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جنہیں ہم اپنی جان و مال، عزیزوں رشتہ داروں سے کہیں زیادہ عزیز سمجھتے ہیں گالیاں سنیں اور خاموش رہیں اور آرام سے بیٹھے