سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 301
سيرة النبي علي 301 جلد 2 روشنی میں کھڑا کر گیا اس کے متعلق یہ نہ کہو کہ وہ ظالم اور مفسد تھا اور یہ فعل اس کی تعلیم کا نتیجہ ہے ہم کون ہیں؟ یاد رکھو! ہم وہ لوگ ہیں جن کے ایک ایک آدمی کو مخالفین پکڑ کر لے گئے ، اس کو سخت ایذا ئیں پہنچا ئیں، تکلیفیں دیں یہاں تک کہ اس کے جسم میں سوئیاں چھوٹی گئیں ، اس کے سامنے ایک سولی لٹکائی گئی اور اسے بتایا گیا یہ تمہارے لئے ہے۔ان تکلیفوں کے درمیان اس سے پوچھا گیا کیا تم چاہتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس کے سبب تمہیں یہ تکلیفیں پہنچ رہی ہیں یہاں ہوتا اور ان تکلیفوں میں مبتلا ہوتا اور تم گھر میں آرام کرتے ؟ یہ بات سن کر وہ نہایت اطمینان اور سکون سے مسکراتا ہوا کہتا ہے تم تو کہتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہاں ہوں اور یہ کہ کیا میں پسند کر سکتا ہوں کہ تکالیف ان کو پہنچ رہی ہوں اور میں اپنے گھر آرام سے بیٹھا ہوا ہوں لیکن مجھے تو یہ بھی پسند نہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں کانٹا چھے اور میں گھر میں آرام سے بیٹھا رہوں 1۔۔غرض ہمارے جسم کا ہر ذرہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہونے کا متمنی ہے۔ہماری جان بھی اسی کے لئے ہے، ہمارا مال بھی اسی کے واسطے، ہم اس پر راضی ہیں بخدا راضی ہیں۔پھر کہتا ہوں بخدا راضی ہیں کہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارے بچے قتل کر دو۔ہمارے دیکھتے دیکھتے ہمارے اہل وعیال کو جان سے مار دو لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نہ دو۔ہمارے مال لوٹ لو، ہمیں اس ملک سے نکال دو لیکن ہمارے سردار حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک اور توہین نہ کرو، انہیں گالیاں نہ دو۔اگر یہ سمجھتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے سے تم جیت سکتے ہو اور یہ سمجھتے ہو کہ گالیاں دینے سے تم رک نہیں سکتے تو پھر یہ بھی یاد رکھو کہ کم سے کم ہم تمہارا اپنے آخری سانس تک مقابلہ کریں گے اور جب تک ہمارا ایک آدمی بھی زندہ ہے وہ اس جنگ کو ختم نہیں کرے گا۔