سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 300 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 300

سيرة النبي عالم 300 جلد 2 ہمارا عشق رسول عل الله جب ہندوستان میں ہندو مسلم فسادات بڑھنے لگے تو حضرت مصلح موعود نے 2 مارچ 1927ء کو بریڈ لاء ہال لاہور میں ایک تقریر فرمائی جو کہ ہند و مسلم فسادات ، اُن کا علاج اور مسلمانوں کا آئندہ طریق عمل“ کے عنوان سے شائع ہوئی۔اس تقریر میں حضرت مصلح موعود کے عشق رسول اور جماعت احمدیہ کا والہانہ اظہار سامنے آتا ہے۔آپ فرماتے ہیں :۔شرد ہانند جی کے قاتل کو میں نے بھی برا کہا اور مسلمانوں نے بھی کہا، دوسرے ملکوں کے مسلمانوں نے بھی کہا لیکن اس ہماری شرافت کا نتیجہ کیا نکلا!! ہم نے تو ہندوؤں سے ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ قاتل نے برافعل کیا ہے لیکن ہندوؤں نے الٹا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینی شروع کر دی ہیں۔اول تو یہ منطق نرالی ہے کہ اگر ایک مسلمان کہلانے والے نے مارا تو سب نے مارا۔اگر ایک اس فعل کی وجہ سے برا ہے تو مسلمان سب برے ہیں لیکن اس کو تسلیم کر کے بھی ہم کہتے ہیں کہ ہم سب برے سہی ، قاتل سہی، جس قدر چاہو برا کہو، ہمیں سزا دے لو، ہمارے ساتھ سختی کر لو، ہمیں گالیاں چھوڑ گولیاں مارلو لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نہ دو، اس کو برا نہ کہو، اس کی شان میں گستاخی نہ کرو۔ہم سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں لیکن نہیں اگر برداشت کر سکتے تو اس مقدس ہستی کی تو ہین نہیں برداشت کر سکتے۔اس پاک وجود کے متعلق گالیاں نہیں برداشت کر سکتے۔ہاں وہ جس نے دنیا میں امن قائم کیا ، امن کی تعلیم دی، وحشی انسانوں کو انسان بنا دیا اور دنیا کو اندھیرے سے نکال کر