سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 294

سيرة النبي الله 294 جلد 2 رسول کریم مے کی ابتدائی حالت اور عروج حضرت مصلح موعود 29 اکتوبر 1926 ء کے خطبہ میں فرماتے ہیں:۔اس نقشہ کو دیکھو جس میں نبی کریم ﷺ ایک سادہ لباس میں خانہ کعبہ میں عبادت کے لئے جاتے ہیں اور پھر اس نقشہ پر بھی نگاہ ڈالو کہ فوجوں کے جھرمٹ میں آپ وہاں داخل ہوتے ہیں۔پھر ایک وقت وہ بھی آیا کہ آپ تن تنہا رہ گئے اور آپ کو دیکھ کر آپ کے عزیز بھی، آپ کے دوست بھی کترا جاتے۔وہ وقت بھی آیا کہ آر کو تکلیفیں دی گئیں۔وہ وقت بھی آیا کہ آپ کی ذلت و رسوائی کے لئے کوئی کسر نہ چھوڑی گئی۔لوگ آپ کو برا بھلا کہتے ، گالی گلوچ نکالتے ، دست درازی کرتے ، حالانکہ خودان کا یہ حال تھا کہ چوری وہ کرتے ، ڈا کے وہ ڈالتے ، مال اٹھا لے جانا ان کے نزدیک معمولی بات ہوتی اور کمزوروں پر ظلم کرنا کوئی عیب ہی نہ شمار کیا جاتا۔خود تو یہ حال تھا لیکن وہ نبی کریم ﷺ کو اذیتیں پہنچاتے اور یہ سمجھتے کہ ہم معزز ہیں علی اور یہ غیر معزز۔یہ صرف اس لئے تھا کہ وہ لوگ تو خدا کو جانتے ہی نہ تھے اور اس کو بھلا بیٹھے تھے۔لیکن آپ اللہ تعالیٰ کو مانتے اور خدا سے منسوب شدہ گھر میں خدا کی عبادت کے واسطے داخل ہوتے۔آپ کی ابتدائی حالت میں کوئی آپ پر میلا ڈالتا ، کوئی دھکا دیتا ، کوئی گلے میں پڑکا ڈالتا۔غرض کوئی تکلیف نہ ہوتی جو پہنچائی نہ جاتی اور کوئی سخت سلوک نہ تھا جو آپ کے ساتھ کیا نہ گیا۔کیا اُس وقت کی حالت کے دیکھنے سے کوئی کہہ سکتا ہے کہ آج جس کو ذلیل سمجھا جاتا ہے وہی دنیا میں سب سے زیادہ عزت دار ہو گا ؟ آج جس کے گلے میں پڑکا ڈالا جاتا ہے وہی ہوگا جس کے آگے دنیا