سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 293
سيرة النبي الله 293 جلد 2 رسول کریم ہے کے الہی اعمال اور اُن کا اجر حضرت مصلح موعود نے 23 جولائی 1926ء کے خطبہ جمعہ میں بیان فرمایا :۔"دیکھو آنحضرت علیہ نے جو بھی کام دنیا میں کیا سراسر دنیا کی بھلائی کے لئے کیا مگر باوجود اس کے آپ نے کبھی کوئی صلہ طلب نہیں کیا بلکہ یہی فرماتے رہے ہم اس کا اجر نہیں مانگتے۔باوجود اس کے کہ آنحضرت ﷺ نے اجر طلب نہیں کیا خدا نے آپ کو دیا۔یہ جو ہزار ہا انسان آپ پر درود پڑھتے ہیں یہ اجر ہی ہے۔اگر آپ وہ کام نہ کرتے جو آپ نے دنیا کے لئے کئے تو کون آپ پر درود بھیجتا۔غرض آپ کو اجر تو ملا لیکن آپ کے دل میں یہ خواہش نہ تھی کہ ملے ،مگر اللہ تعالیٰ دلاتا ہے۔اس کی ایک وجہ بھی ہوتی ہے کہ وہ بندوں کو نا شکر انہیں بتانا چاہتا۔غرض مومن اگر کوئی کام کرتا ہے تو اس کے اجر کے لئے سوال نہیں کرتا لیکن خدا تعالیٰ جب اسے دلاتا ہے تو پھر انکار بھی نہیں کرتا کیونکہ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ انکار سے کفرانِ نعمت لازم آتا ہے۔مگر ایک شخص سجدہ تو عرش پر کرتا ہے مگر اس کی خواہشات ملتی نہیں۔جو لذت اسے درود و وظائف سے حاصل ہوتی ہے وہ دراصل بھنگ پینے والوں کی لذت کے برابر ہے۔حقیقی روحانیت اس تعلق باللہ کا نام ہے جس سے بلاواسطہ ایک شخص اپنا تعلق خدا کے ساتھ محسوس کرتا ہے اور جس سے رفتہ رفتہ وہ ایک ایسے مقام پر پہنچا دیا جاتا ہے کہ فرشتوں کو بھی درمیان سے ہٹا دیا جاتا ہے۔چنانچہ معراج میں یہی ہوا۔ایک مقام پر پہنچ کر جبرائیل بھی رک گئے۔مگر یہ بات اور اد کے ذریعہ حاصل نہیں ہو سکتی۔ان طریقوں پر عمل کرنے سے ہو سکتی ہے جو شریعت نے مقرر کئے ہیں۔(الفضل 3 اگست 1926ء)