سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 15

سيرة النبي ع 15 جلد 2 ایسے عنید دشمن ہیں اور ان کے مظالم بیروں از شمار ہیں مگر آپ جب ان پر قابو پاتے ہیں تو یکسر معاف کر دیتے ہیں۔آپ کہتے ہیں تلوار کے ذریعہ فتح کیا۔میں کہتا ہوں کہ جن لوگوں نے تلوار چلائی انہیں کسی تلوار نے فتح کیا ؟ پھر اگر یہ سچ بھی ہو تو کیا وہ اس تلوار کے مستحق نہ تھے ؟ مگر حقیقت یہ ہے کہ ان پر دین قبول کرانے کے لئے تلوار نہیں چلائی گئی۔یہ ایک تاریخی واقعہ ہے کہ جب مسلمان مکہ کے دروازوں پر پہنچے تو مسلمانوں کے ایک سپہ سالار نے کہا کہ اب دیکھنا ہم ان کفار کو ان کے مظالم کا کیسا صلى الله بدلہ چکھاتے ہیں مگر مسلمانوں کے سردار محمد مصطفی ﷺ نے اس آواز کو پسند نہ کیا اور ان کے طالب عفو ہونے پر ان کے تمام ظلموں کو کلیۂ بھلا دیا۔کیا اس تعلیم پر عمل نہیں کر کے دکھایا جو لفظوں میں دی گئی؟ کیا یہ تلوار کے ذریعہ اسلام پھیلا ہے؟ یا کوئی اور ہی چیز تھی جس نے یہ تغیر پیدا کئے اور ان پتھروں کو موم کر دیا۔یہ تمام وہ باتیں ہیں جو 66 مجموعی طور پر نبی کریم ﷺ نے پیدا کیں جن کی نظیر پیش نہیں کی جاسکتی۔“ 1 : النساء : 24 تفخیذ الا ذبان اکتوبر 1919ء صفحہ 12 تا 24) 2:بخاری کتاب الشروط باب الشروط فى الجهاد صفحہ 448 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الثانية 3: سیرت ابن ہشام جلد 1 صفحہ 675 مطبوعہ دمشق 2005 ء الطبعة الاولى 4:بخاری کتاب المغازی باب فضل من شهد بدرا صفحه 673 حدیث نمبر 3988 مطبوعہ ریاض 1999 الطبعة الثانية 5 سیرت ابن ہشام جلد 2 صفحہ 880 مطبوعہ دمشق 2005 ، الطبعة الاولى 6: النحل: 91 سیرت ابن ہشام جلد 1 صفحہ 370 تا 386 مطبوعہ دمشق 2005ء الطبعة الاولى 8: السيرة الحلبية الجزء الثالث صفحہ 207 208 زیر عنوان فتح مكه شرفها الله تعالى مطبوعہ بیروت لبنان 2012 ء