سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 16
سيرة النبي الله 16 جلد 2 رسول کریم ﷺ پر اعتراض کا خطرناک نتیجہ وو حضرت مصلح موعود 14 نومبر 1919ء کے خطبہ جمعہ میں فرماتے ہیں:۔رسول کریم ہے ایک جنگ میں تشریف لے گئے جب کوٹے تو غنیمت میں حضور نے مہاجرین کو کسی قدر مال زیادہ دیا اور اس پر انصار کے ایک گروہ میں سے کسی نے کہہ دیا کہ خون تو اب تک ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے لیکن مال لے گئے مہاجرین۔اسی مجمع میں انصار میں سے ایک وہ شخص بھی بیٹھے تھے جنہوں نے حضور کی صحبت اٹھائی تھی وہ حضور کے پاس گئے اور خبر دی کہ ایک مجمع میں ایسی گفتگو ہوئی ہے۔بعض لوگوں کا قاعدہ ہوتا ہے کہ جب ان کے عزیز سے کوئی غلطی ہو تو وہ اس پر پردہ ڈالا کرتے ہیں مگر اُنہوں نے ایسا نہ کیا۔حضور نے انصار کو بلایا اور کہا کہ میں نے اس قسم کی خبر سنی ہے کیا یہ درست ہے؟ انہوں نے کہا کہ بے شک درست ہے مگر یہ کہنے والے بڑے لوگ نہیں بچے ہیں۔حضور نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا کہ اے انصار ! تم کہہ سکتے تھے کہ یہ گھر سے نکالا ہوا اکیلا آیا۔ہم نے اس کا ساتھ دیا اور اُس وقت ساتھ دیا جب اس کے وطن والے اس کے دشمن تھے۔پھر ہم نے اس کے دشمنوں کو زیر کیا۔اب جب یہ فتح یاب ہوا تو اس نے اپنے بھائیوں کو مال دے دیا اور ہمیں کچھ نہ دیا۔پھر فرمایا مگر اس کے مقابلہ میں تم یہ بھی کہہ سکتے ہو کہ ایک جنگ جس سے مہاجرین تو مال و اسباب اور اونٹ وغیرہ لے کر گھروں کو گئے اور مدینہ والے اللہ کے رسول کو ساتھ لے گئے۔مگر اب جو الفاظ تمہارے منہ سے نکلے ہیں ان کا نتیجہ تم سن لو کہ دنیا میں تمہارے لئے کوئی عزت نہیں حوض کوثر پر ہی آکر مجھ سے مطالبہ کرنا 1۔