سیرت النبی ﷺ (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 535

سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 14

سيرة النبي عالم 14 جلد 2 کفار مکہ کے مظالم مسلمانوں پر غرض کفار مکہ نے مسلمانوں پر مظالم کئے اور بہت کئے۔عورتوں کی شرمگاہوں میں نیزے مارے اور دو مختلف طرفوں پر اونٹوں کو کھڑا کیا اور ایک پیر ایک عورت کا ایک اونٹ سے باندھ دیا دوسرا دوسرے سے اور دونوں اونٹوں کو مخالف سمتوں کی طرف دوڑا دیا۔عورت دو ٹکڑے ہو کر گر پڑی۔انہوں نے جنگ میں کام آنے والے مسلمانوں کو مشغلہ بنایا ، آنکھیں نکال دیں ، کان ناک کاٹ دیئے اور پیٹ چاک کر کے کلیجہ نکال کر چبایا اور اس سے بھی بڑھ بڑھ کر ظلم کئے۔پھر آپ جانتے ہیں کہ اگر ایک شخص کی محنت کو برباد کیا جائے اس کو کتنا غم اور رنج ہوتا ہے۔کفار کے ایک قبیلہ نے کہا کہ ہم مسلمان ہونا چاہتے ہیں ہمیں معلم چاہئیں۔آپ نے کئی قاریوں کو ان کی تعلیم کے لئے بھیج دیا اور انہوں نے ان تمام کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔آپ کہتے ہیں کہ تلوار چلائی گئی۔میں کہتا ہوں کہ اگر ان سے بدلہ لیا جاتا تو وہ مستحق تھے۔اس واقعہ سے آپ غور کر سکتے ہیں کہ آنحضرت علے کو کتنا رنج ہونا چاہئے تھا کیونکہ آپ کے طیار کئے ہوئے لوگ بے دردی اور دھو کے کے ساتھ قتل کر ڈالے گئے۔پھر آپ کی ذات پر طرح طرح کے ظلم کئے۔بارہا چاہا کہ آپ کو قتل کر دیں ، آپ کو زہر دے کر مارڈالیں اور آپ پر پتھر گرا کے ہلاک کر دیں۔پھر اسی پر بس نہیں کیا بلکہ آپ کی مستورات اور آپ کے معزز اور بڑے صحابہ کی مستورات پر الزام لگائے گئے اور شعر کہے گئے جن میں یہ مضمون ہوتا تھا کہ ہمارا فلاں عورت سے تعلق ہے۔ایک طرف تو یہ تمام مظالم ہیں۔فاتح ہو کر آنحضرت ﷺ کا نیک سلوک دوسری طرف آپ جب فتح مکہ کرتے ہیں تو ان کے اس سوال پر کہ ہم سے کیا کیا جائے گا؟ فرماتے ہیں لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ : جاؤ ہم نے تمہاری تمام غلطیاں معاف کیں۔غور کرنے کا مقام ہے کہ ایک طرف تو