سیرت النبی ﷺ (جلد دوم) — Page 265
سيرة النبي الله 265 جلد 2 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غم کی کیفیت 13 دسمبر 1924ء کو حضرت مصلح موعود نے مسجد اقصیٰ میں ایک پُر درد خطاب فرمایا جس میں رسول کریم ﷺ کی سیرت کے حوالہ سے یہ بات بیان فرمائی کہ ہموم و عموم میں حضور کی کیا کیفیت ہوتی تھی۔فرمایا:۔وو صلى اللهعمه حدیث میں آتا ہے جب رسول اللہ علیہ کے چا فوت ہوئے تو آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔آپ کو کہا گیا کہ اپنے چا کو دیکھ لیں مگر آپ نے جواب دیا کہ میں ان کی اس حالت کو دیکھ نہیں سکتا۔یہ وہ شخص ہے جو ہمارے لئے اسوہ حسنہ صلى الله ہے۔پھر حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم عہ حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد ایسے غمگین رہے کہ اس کے بعد بارہ سال تک آپ زندہ رہے۔اس عرصہ میں جب کبھی حضرت خدیجہ کا آپ ذکر فرماتے تو آپ کی آنکھوں میں آنسو آ جایا کرتے تھے۔جب آپ اس کے کسی رشتہ دار کو دیکھ لیتے تو آپ پر رقت طاری ہو جاتی۔اور جب ان کی سہیلیوں کو دیکھتے تو بھی آپ بے اختیار ہو جاتے۔حتی کہ آپ کی دوسری بیویوں میں رشک پیدا ہو جاتا اور حضرت عائشہ فرماتیں کہ آپ اس بڑھیا کو یا دکر کے کیوں اتنا بیتاب ہو جاتے ہیں؟ آپ نے فرمایا تم نہیں جانتیں کہ اس نے کتنی خدمت اور فرمانبرداری میری مشکلات کے وقت میں کی 1۔پھر ایک دفعہ نبی کریم ﷺ اپنے نواسہ پر روئے تو ایک جاہل نے آپ کو کہہ دیا رسول ہو کر پھر روتے ہیں تو حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے شقی القلب نہیں بنایا۔تجھے اگر شقاوت حاصل ہے تو نہ رویا کر2۔